اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر نے دراوڑی ماہرین لسانیات کی قومی کانفرنس میں کلیدی خطبہ پیش کیا
علی گڑھ, 19 جون (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات کے چیئرمین اور لنگوئسٹک سوسائٹی آف انڈیا کے صدر پروفیسر محمد جہانگیر وارثی نے پنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ میں منعقدہ 53ویں آل انڈیا کانفرنس برائے دراوڑی ماہرین لسانیات میں کلیدی خطبہ پی
پروفیسر جہانگیر وارثی


علی گڑھ, 19 جون (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات کے چیئرمین اور لنگوئسٹک سوسائٹی آف انڈیا کے صدر پروفیسر محمد جہانگیر وارثی نے پنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ میں منعقدہ 53ویں آل انڈیا کانفرنس برائے دراوڑی ماہرین لسانیات میں کلیدی خطبہ پیش کیا۔

‘‘مصنوعی ذہانت کے دور میں کثیر لسانی معاشروں کا مستقبل: لسانی نظریے کی ازسرِنو تشکیل کی ضرورت’’ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر وارثی نے کثیر لسانی ابلاغ، زبان سیکھنے اور ترجمے کے میدان میں مصنوعی ذہانت کے انقلابی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ٹکنالوجیز نے مختلف زبانوں کے درمیان رابطے اور تعامل کے مواقع میں اضافہ کیا ہے، تاہم انہیں خصوصاًاقلیتی اور علاقائی زبانوں کے معاملے میں اب بھی نحوی ساخت، معنیات، پریگمیٹکس اور ثقافتی سیاق و سباق کو سمجھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ جامع اور ثقافتی شعور رکھنے والے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی تشکیل میں ماہرین لسانیات کا کردار نہایت اہم ہے۔ پروفیسر وارثی نے ایسے لسانی نظریے کی ازسرِنو تشکیل کی ضرورت پر زور دیا جو انسانی ادراک، سماجی تناظر، کثیر لسانیت اور اخلاقی پہلوؤں کو یکجا کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی لسانی ٹکنالوجیز کی ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے جو ایک طرف لسانی تنوع کے تحفظ کو یقینی بنائیں تو دوسری جانب کثیر لسانی معاشروں میں مؤثر ابلاغ کو فروغ دیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande