
علی گڑھ, 19 جون (ہ س)۔
مرکزی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر کرشی وگیان کیندر، چھیرت میں منعقدہ دو روزہ قدرتی کھیتی ورکشاپ جمعہ کو اختتام پذیر ہوگئی۔ پروگرام کا آغاز ثقافتی لوک گائیکی سے ہوا، جس میں لوک گلوکار للت کمار نے مرکزی و ریاستی حکومت کی اسکیموں اور کامیابیوں کو دلچسپ انداز میں پیش کیا۔
ورکشاپ میں مختلف زرعی سائنس دانوں اور ماہرین نے کسانوں کو قدرتی اور نامیاتی کھیتی، حیاتیاتی کھادوں، مٹی کی زرخیزی اور جدید زرعی تکنیکوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ نئی دہلی کے بھارتیہ کرشی انوسندھان سنستھان کے سائنس دان ڈاکٹر برجیش مشرا نے حیاتیاتی کھادوں اور بیجوں کے علاج میں مفید جرثوموں کے استعمال پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈاکٹر سبینا نے سبزیوں کی غذائی اہمیت اور گھریلو سبزی کاشت کی افادیت بیان کی۔
ڈاکٹر نیتراپال ملک اور سابق پرنسپل سائنس دان ڈاکٹر رنویر سنگھ نے قدرتی کھیتی کے فوائد اور کیمیائی کھادوں کے مضر اثرات سے آگاہ کیا۔ ترقی پسند کسان رادھے شیام شرما نے نامیاتی کھاد کی تیاری اور دیسی گائے کے گوبر کے استعمال پر مفصل گفتگو کی۔
ضلع لیڈ بینک منیجر اشوک کمار سونی نے کسانوں کو زرعی قرض، کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی)، سی ایم یوا اسکیم اور دیگر سرکاری منصوبوں سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ اختتامی تقریب میں مقررین نے قدرتی کھیتی کو ماحول دوست، کم خرچ اور صحت بخش زراعت قرار دیتے ہوئے کسانوں سے اسے اپنانے کی اپیل کی۔ پروگرام میں زرعی سائنس دانوں، مختلف محکموں کے افسران، ثقافتی ٹیموں اور بڑی تعداد میں کسانوں نے شرکت کی۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ