
نئی دہلی، 19 جون (ہ س)۔ قومی خواتین کمیشن (این سی ڈبلیو) نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو خواتین کے لیے ایک محفوظ اور باعزت کام کی جگہ کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع ایڈوائزری جاری کی ہے۔ جمعہ کو جاری کردہ ایڈوائزری میں کام کی جگہ پر خواتین کی جنسی ہراسانی (روک تھام، ممانعت اور ازالہ) ایکٹ (پی او ایس ایچ ایکٹ) 2013 کے مو¿ثر نفاذ کے لیے اہم اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ایڈوائزری میں 10 یا اس سے زیادہ ملازمین والے تمام اداروں میں سالانہ پی او ایس ایچ آڈٹ کو لازمی قرار دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کمیشن کی ایڈوائزری نے ریاستوں کو ہدایت کی کہ وہ قانون کی تعمیل کی باقاعدگی سے نگرانی کےلئے پی او ایس ایچ مانیٹرنگ سیل یا ڈیجیٹل ڈیش بورڈ قائم کریں۔ کمیشن نے تمام سرکاری محکموں، سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور نجی اداروں میں داخلی شکایات کمیٹیاں قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس نے غیر منظم شعبے، گھریلو ملازمین اور چھوٹے اداروں کی خواتین کی شکایات کو دور کرنے کے لیے مقامی کمیٹیوں کو مضبوط بنانے کی بھی سفارش کی۔
ایڈوائزری میں بلاک، تحصیل اور شہر کی سطح پر نوڈل افسروں کی تقرری پی او ایس ایچ ایکٹ کے بارے میں بیداری مہم چلانے، کمیٹی کے اراکین کو تربیت دینے اور شکایت کنندگان کو ہراساں کرنے اور امتیازی سلوک سے بچانے کی ہدایات بھی شامل ہیں۔ کمیشن نے مرکزی حکومت کے شی بوکس پورٹل کے استعمال کو فروغ دینے اور شکایت کے عمل اور کمیٹی کے بارے میں معلومات کو عوامی طور پر دستیاب کرنے پر بھی زور دیا۔کمیشن کی چیئرپرسن وجیا رہاتکر نے کہا کہ خواتین کی عزت اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہر کام کی جگہ محفوظ، باعزت اور خواتین کو مساوی مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔یہ اقدامات ملک بھر میں خواتین کے لیے ایک محفوظ، جامع اور صنفی لحاظ سے حساس کام کی جگہ کا کلچر تیار کریں گے اور کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی کے واقعات کی روک تھام اور مو¿ثر ازالے کو یقینی بنائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan