
بھوپال، 19 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے جمعہ کے روز منعقدہ پریس کانفرنس میں قبائلی معاشرے کے حقوق، زمین، تعلیم، روزگار، سیکورٹی اوروقار سے متعلق مختلف مسائل کو لے کر ریاستی حکومت پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں قبائلی برادری سے متعلق معاملات میں سنگین تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جن پر حکومت کو جواب دینا چاہیے۔
پریس کانفرنس میں جیتو پٹواری نے ہندوستان کی پہلی خاتون قبائلی صدر جمہوریہ کے مدھیہ پردیش کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی معاشرے کی شناخت، ثقافت اور آئینی حقوق کے تحفظ پر قومی سطح پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی برادری ملک کے امیر ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
پٹواری نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں قبائلی زمین کی منتقلی سے متعلق معاملات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی شکایتیں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت بننے پر ایسے تمام معاملات کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے گی اور اگر کسی بھی طرح کی بے ضابطگی یا غیر قانونی زمین کی منتقلی پائی جاتی ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مختلف پروجیکٹوں اور کان کنی کی سرگرمیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں قبائلی خاندان نقل مکانی کے مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور روزگار کے مناسب انتظامات یقینی بنائے جانے چاہئیں۔
جنگلاتی حقوق کے مسئلے پر جیتو پٹواری نے کہا کہ قبائلی برادری کو قانون کے تحت ملنے والے حقوق پر موثر طریقے سے عمل درآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے دفعات کو پوری طرح نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ قبائلی طلبہ کے لیے چلائی جا رہی اسکیموں کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور معیاری تعلیم کی دستیابی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (ایس سی اور ایس ٹی) کے لیے مختص بیک لاگ اسامیوں کو جلد بھرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
خواتین کی سیکورٹی کے مسئلے پر پی سی سی چیف پٹواری نے کہا کہ قبائلی خواتین اور دوشیزاوں سے جڑے معاملات پر حکومت کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اور انسانی اسمگلنگ جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ وزیر اعلیٰ پر نشانہ سادھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں حزبِ اختلاف کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب حقائق کی بنیاد پر دیا جانا چاہیے اور عوامی زندگی میں عہدے کے وقار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ پٹواری نے ریاست میں تبادلوں کو لے کر بھی حکومت کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے اور انتظامی فیصلوں میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔
پٹواری نے کہا کہ کانگریس پارٹی قبائلی معاشرے کے جل، جنگل، زمین، اعزاز اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قبائلی زمین، نقل مکانی، جنگلاتی حقوق، روزگار، خواتین کی سیکورٹی اور انتظامی بے ضابطگیوں سے جڑے معاملات میں غیر جانبدارانہ جانچ اور جوابدہی یقینی بنانے کی حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی برادری کے حقوق کا تحفظ سماجی انصاف اور آئینی اقدار سے جڑا ہوا موضوع ہے اور کانگریس اس مسئلے کو نمایاں طور پر اٹھاتی رہے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن