
حیدرآباد، 19 جون (ہ س) - تلنگانہ ریاستی کابینہ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ حیدرآباد میٹرو ریل فیس II پروجیکٹ کو فوری منظوری دی جائے ۔ کابینہ نے مرکز سے منظوری کے حصول میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزراء اور بی جے پی ارکان پارلیمنٹ سے تعاون کی اپیل کی۔ کابینہ نے کسانوں کی رعیتو بھروسہ اسکیم کی امدادی رقم 30 جون سے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ کاغیر رسمی اجلاس آج سکریٹریٹ میں وزیر اعلی ریونت ریڈی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کسانوں کے مختلف اموراور کابینہ کوڈیجیٹل کرنے سے متعلق فیصلے کئے گئے۔ بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی، ٹی ناگیشور رائو اورڈی انوسویاسیتااکا نے کہاکہ کابینہ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حیدرآباد میٹرو ریل فیس II پروجیکٹ کی جلد منظوری دی جائے۔
تلنگانہ حکومت نے مرکز سے مطالبہ کیاہے کہ وہ فنڈس میں بھلے ہی حصہ داری ادانہ کرے لیکن درکارمنظوریاں فوری جاری کریں تاکہ حکومت اپنے خرچ پر پروجیکٹ کی تکمیل کرسکے۔ حکومت نے انڈین ریلوے فینانس کارپوریشن کی جانب سے منظورہ قرض کی عاجلانہ اجرائی کی مانگ کی۔ کابینہ نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزراء اور بی جے پی ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ درکار منظوریوں کے حصول میں تعاون کریں تاکہ حیدرآباد میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے۔ اتم کمار ریڈی نے کہاکہ حیدرآباد میں بڑھتی ٹریفک اورٹریفک سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے میٹرو فیس II پر عمل آوری ناگزیر ہے۔ کابینہ نے آئندہ اجلاسوں کے ڈیجیٹل انعقاد کا فیصلہ کیا جس کے تحت کابینہ کا ایجنڈہ اور دیگر دستاویزات وزراء کوای بک کے ذریعہ سربراہ کئے جائیں گے۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی سریدھر بابو نے وزیراعلی، نائب وزیر اعلی اور کابینی وزراء کوخصوصی ٹیاب حوالے کئے۔کابینہ کے آئندہ اجلاس کاغذ کے بغیر ڈیجیٹل سسٹم کے تحت منعقدکئے جائیں گے۔ حکومت نے نظم و نسق کو پیپر لیس بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق