
شولاپور، 19 جون (ہ س)۔ سوشل میڈیا پر ریلز کے ذریعے مقبولیت حاصل کرنے والی ریل اسٹار روہنی پارادھیے کی خودکشی کے معاملے میں 23 دن بعد اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے روہنی کی موت کے لیے مبینہ طور پر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے شوہر نلیش پارادھیے کے خلاف منگل ویدھا پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔اطلاعات کے مطابق روہنی پارادھیے نے 26 مئی کو اپنے گھر میں پھندا لگا کر خودکشی کر لی تھی۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا حلقوں میں سنسنی پھیل گئی تھی اور ان کے مداحوں میں غم کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ابتدائی طور پر اس واقعے کو ایک معمولی خودکشی کا معاملہ سمجھا جا رہا تھا، تاہم بعد میں تحقیقات کے دوران کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا۔متوفیہ کے والد بالو شیوشرن کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ روہنی کو ان کے شوہر نلیش پارادھیے مسلسل جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کرتے تھے۔ شکایت کے مطابق اسی مبینہ ہراسانی اور اذیت سے تنگ آ کر روہنی نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی ختم کر لی۔ والد کی شکایت کی بنیاد پر منگل ویدھا پولیس نے نلیش پارادھیے کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 108، 115(2)، 352 اور 351(2) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس کی ذمہ داری پولیس سب انسپکٹر ناگیش بنکر کو سونپی گئی ہے۔ تفتیش کے دوران تمام الزامات اور دستیاب شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔روہنی پارادھیے کی اچانک موت نے ان کے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین کو صدمے میں مبتلا کر دیا تھا۔ اب مقدمہ درج ہونے کے بعد اس بات پر نظریں مرکوز ہیں کہ پولیس تحقیقات میں مبینہ جسمانی اور ذہنی ہراسانی کے الزامات کس حد تک درست ثابت ہوتے ہیں اور اس معاملے میں مزید کیا حقائق سامنے آتے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجوہات اور ذمہ داریوں کے بارے میں واضح تصویر سامنے آ سکے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے