پانچ روز بعد روی کانت تُپکر کا احتجاج معطل، گیریش مہاجن کی ثالثی کامیاب
بلڈھانا، 19 جون (ہ س)۔ کسانوں کے قرضوں کی مکمل معافی، زیر التوا فصل بیمہ رقم کی ادائیگی، زراعت سے منسلک کاروباروں کے لیے سبسڈی، آبپاشی کی سہولیات اور دیگر مختلف مطالبات کے حق میں گزشتہ پانچ روز سے جاری کسان رہنما روی کانت تُپکر کا ’’انّ تیاگ آندولن
Agitation Maha Farmer Protest


بلڈھانا، 19 جون (ہ س)۔ کسانوں کے قرضوں کی مکمل معافی، زیر التوا فصل بیمہ رقم کی ادائیگی، زراعت سے منسلک کاروباروں کے لیے سبسڈی، آبپاشی کی سہولیات اور دیگر مختلف مطالبات کے حق میں گزشتہ پانچ روز سے جاری کسان رہنما روی کانت تُپکر کا ’’انّ تیاگ آندولن‘‘ بالآخر جمعرات کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مہاراشٹر کے آبی وسائل کے وزیر گیریش مہاجن نے احتجاجی مقام پر پہنچ کر تُپکر سے براہِ راست ملاقات کی اور حکومت کی جانب سے مثبت یقین دہانی کرائی۔روی کانت تُپکر نے بلڈھانا میں کسانوں کے مختلف مسائل کو لے کر پانچ روز قبل بھوک ہڑتال اور انّ تیاگ تحریک شروع کی تھی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ریاست کے تمام کسانوں کے قرضے بلا تفریق معاف کیے جائیں، فصل بیمہ کی بقایا رقم جلد ادا کی جائے، زراعت سے وابستہ معاون کاروباروں کو مالی مدد فراہم کی جائے، آبپاشی کی سہولیات میں بہتری لائی جائے اور کسانوں کے دیگر دیرینہ مسائل حل کیے جائیں۔احتجاج کے پانچویں دن وزیر گیریش مہاجن نے خود احتجاجی مقام کا دورہ کیا اور روی کانت تُپکر سے تفصیلی بات چیت کی۔ اس موقع پر انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ چار سے پانچ دن کے اندر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور روی کانت تُپکر کے درمیان خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا۔ وزیر نے کہا کہ اس مجوزہ میٹنگ میں کسانوں کے تمام زیر التوا مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا اور ان کے حل کے لیے مثبت راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔ گیریش مہاجن کی اس ثالثی اور یقین دہانی کے بعد روی کانت تُپکر نے اپنا انّ تیاگ آندولن فی الحال واپس لینے کا اعلان کیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ تحریک مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ صرف حکومت کو وقت دینے کے لیے عارضی طور پر معطل کی گئی ہے۔احتجاج معطل کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روی کانت تُپکر نے کہا کہ کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے انہوں نے حکومت کو مزید چند دنوں کی مہلت دی ہے۔ اگر چار سے پانچ دن کے اندر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے ساتھ ملاقات ہوتی ہے اور کسانوں کے مطالبات تسلیم کر لیے جاتے ہیں تو یہ خوش آئند ہوگا، لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ دوبارہ سڑکوں پر اتریں گے اور احتجاج کو مزید شدت کے ساتھ شروع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کسان اب محض وعدوں اور یقین دہانیوں سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ کسانوں کو عملی اقدامات اور ٹھوس فیصلوں کی ضرورت ہے۔ تُپکر نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو آئندہ تحریک پہلے سے زیادہ وسیع عوامی حمایت کے ساتھ چلائی جائے گی۔ ان کے مطابق کسانوں کے حقوق کی یہ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ انصاف ملنے تک جاری رہے گی۔اس موقع پر وزیر گیریش مہاجن نے کہا کہ کسان مہاراشٹر کی معیشت اور ترقی کی بنیاد ہیں اور ان کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ جلد از جلد ملاقات منعقد کی جائے گی، جس میں قرض معافی، فصل بیمہ، آبپاشی اور دیگر مطالبات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کرکے قابلِ عمل حل نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کسانوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہے اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت روی کانت تُپکر کے مطالبات پر بھی مثبت انداز میں غور کیا جائے گا تاکہ کسانوں کو درپیش مشکلات کم کی جا سکیں۔اس طرح پانچ روز سے جاری یہ احتجاج فی الحال ختم ہو گیا ہے، تاہم کسان رہنما روی کانت تُپکر نے واضح کر دیا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے مقررہ مدت میں عملی پیش رفت نہ ہوئی تو کسانوں کی تحریک ایک بار پھر زور پکڑ سکتی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande