
کولکاتا، 18 جون (ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب سے متعلق مبینہ دستخط کی جعلسازی کے معاملے کی تحقیقات کے لیے سی آئی ڈی کی ٹیم جمعرات کو سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی بہن کی کالی گھاٹ رہائش گاہ پر پہنچی۔ اس پیش رفت نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، تحقیقاتی ٹیم مختلف حقائق کی چھان بین کرنے اور مبینہ جعلی دستخط کیس سے متعلق ضروری معلومات اکٹھی کرنے پہنچی۔ تاہم اس کارروائی کے حوالے سے سی آئی ڈی کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے لیے اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد سے متعلق ہے۔ الزام ہے کہ اس قرارداد میں کچھ ایم ایل اے کے دستخط ان کی جانکاری یا رضامندی کے بغیر استعمال کیے گئے تھے۔ شکایت کے بعد سی آئی ڈی کو جانچ کی ذمہ داری سونپی گئی۔
سی آئی ڈی اب تک کئی سیاسی رہنماو¿ں سے پوچھ گچھ کر چکی ہے۔ اس معاملے میں ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی نے ایم ایل اے کنال گھوش، سابق وزیر مدن مترا اور کئی دوسرے لیڈروں کو بھی طلب کیا ہے اور ان کے بیانات درج کرائے ہیں۔ کیس سے متعلق مختلف مقامات پر تلاشی بھی لی گئی ہے۔
سی آئی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران کئی سیاستدانوں کے بیانات میں تضاد سامنے آیا ہے۔ اس لیے معاملے کی تہہ تک پہنچنے اور اصل حقائق سے پردہ اٹھانے کے لیے تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں۔
درحقیقت اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ترنمول کانگریس نے شوبھن دیو چٹوپادھیائے کو اپوزیشن لیڈر منتخب کرنے کا فیصلہ کیا اور اسپیکر کو اس سلسلے میں ایک قرارداد پیش کی۔ بعد ازاں قرارداد میں جعلی دستخطوں کے استعمال کے الزامات نے تنازعہ کو جنم دیا۔
دریں اثنا، ترنمول کانگریس کے 58 ایم ایل اے نے مختلف موقف اختیار کیا اور ریتبرت بنرجی کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر حمایت دی۔ اس نے ایک سیاسی تنازعہ کو جنم دیا اور مبینہ دستخط کی جعلسازی کی تحقیقات کا باعث بنی۔
سی آئی ڈی کی تازہ کارروائی اسی تفتیش کا حصہ مانی جا رہی ہے۔ ایجنسی اب کیس کے تمام پہلوو¿ں کا جائزہ لے رہی ہے اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید سیاستدانوں سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد