اے ایم یو کی سرسید اکیڈمی میںسرسید احمد خاں: اے پرائیویٹ لائف پر پینل مباحثہ منعقد
اے ایم یو کی سرسید اکیڈمی میںسرسید احمد خاں: اے پرائیویٹ لائف پر پینل مباحثہ منعقد علی گڑھ, 18 جون (ہ س)۔ پروفیسر افتخار عالم خاں کی تصنیف ”سرسید: درونِ خانہ“ کے انگریزی ترجمے ”سرسید احمد خاں: اے پرائیویٹ لائف“ پر ایک پینل مباحثہ سرسید اکیڈمی، عل
سرسید اکیڈمی


اے ایم یو کی سرسید اکیڈمی میںسرسید احمد خاں: اے پرائیویٹ لائف پر پینل مباحثہ منعقد

علی گڑھ, 18 جون (ہ س)۔

پروفیسر افتخار عالم خاں کی تصنیف ”سرسید: درونِ خانہ“ کے انگریزی ترجمے ”سرسید احمد خاں: اے پرائیویٹ لائف“ پر ایک پینل مباحثہ سرسید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں منعقد کیا گیا جس میں مقررین نے کتاب کے مترجم اور انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی کے انگریزی ترجمہ کو سراہا اور اسے سرسید شناسی کے باب میں ایک قیمتی اضافہ قرار دیا۔ مقررین نے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے شائع ہونے والی یہ کتاب سرسید کی تفہیم نو میں بے حد مددگار ثابت ہوگی۔

پینل مباحثہ میں پروفیسر آذرمی دخت صفوی، سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر شافع قدوائی، پروفیسر عاصم صدیقی، پروفیسر محمد سجاد اور ڈاکٹر راحت ابرار شامل ہوئے۔ مترجم ڈاکٹر اطہر فاروقی نے بھی اپنے خیالات و تاثرات پیش کئے۔پروفیسر آذرمی دخت صفوی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہاکہ ترجمہ ایک مشکل فن ہے۔ الفاظ و محاورات کا ثقافتی و سماجی پس منظر ہوتا ہے، اسے دوسری زبان میں منتقل کرنا ایک مشکل امر ہے۔ہر زبان کا اپنا مزاج اور ٹمپرامنٹ ہوتا ہے، لفظوں میں معانی کا سمندر پنہاں ہوتا ہے، بعض دفعہ جملوں میں روانی ہوتی ہے مگر عبارت کا حقیقی مفہوم دوسری زبان میں منتقل نہیں ہوپاتا۔ انھوں نے ڈاکٹر اطہر فاروقی کے ترجمے کو سراہا اور اس بات پر بھی زور دیا کہ سرسید احمد خاں کی سرگرم زندگی کے نامعلوم پہلوؤں کو سامنے لایا جائے تاکہ ان کے سلسلہ میں دانستہ پھیلائی گئی باتوں کا لوگوں کو علم ہو۔ پروفیسر صفوی نے ترجمہ کی پیچیدگیوں پر گفتگو کرتے ہوئے امیر خسرو کی تصنیف اعجازخسروی کے ترجمہ کے سلسلہ میں اپنے تجربات بھی بیان کئے۔ انھوں نے سرسید سے متعلق کچھ دیگر کتب کے انگریزی ترجمہ کی ضرورت بھی واضح کی۔سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ سرسید شناسی میں جو کتابیں حوالہ جاتی درجہ رکھتی ہیں ان میں پروفیسر افتخار عالم خاں کی تصانیف کا خاص مقام ہے۔ سرسید: درونِ خانہ میں تحقیقی دقیقہ سنجی سے کام لیا گیا ہے، اور اس بات کی ضرورت تھی کہ یہ کتاب قارئین کے وسیع حلقہ تک پہنچے۔ ڈاکٹر اطہر فاروقی نے اس کا انگریزی ترجمہ کرکے عام قارئین کو سرسید کو سمجھنے اور جاننے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس سے سرسید کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں دور ہوں گی۔پروفیسر عاصم صدیقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ترجمہ کے لئے صرف زبان کا جاننا کافی نہیں بلکہ زبان کی تہذیب و ثقافت کی بھی حس ہونی چاہئے تبھی حقیقی مفہوم ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل ہوسکے گا۔ انھوں نے کہاکہ ڈاکٹر اطہر فاروقی کے ترجمہ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اسے رکے بغیر پڑھتے جانے کو دل کرتا ہے، یہی اس ترجمہ کی کامیابی ہے۔ انھوں نے ترجمہ کے سلسلہ میں اپنے تجربات بھی بیان کئے اور کہا کہ اگر ترجمہ نہیں ہوتا تو ورلڈ لٹریچر تک لوگوں کی رسائی نہیں ہوتی۔ انھوں نے کہا کہ پروفیسر افتخار عالم خاں کی زبان بہت صاف ہے، اسے انگریزی میں منتقل کرنا آسان نہیں تھا، تاہم اطہر فاروقی نے یہ کارنامہ بہت خوبصورتی سے انجام دیا ہے۔ کتاب میں انڈیکس کی شمولیت کی بھی انھوں نے تعریف کی جس سے اس کی افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔پروفیسر محمد سجاد نے اپنے خطاب میں کہاکہ سرسید احمد خاں کی زندگی میں پرائیویٹ کچھ بھی نہیں تھا، ان کی پوری زندگی اصلاحی مشن کے لئے وقف تھی۔ اس دوران انھیں بڑی مخالفتوں اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف سرسید کا یہ وِژن تھا کہ وہ ایم اے او کالج کے سنگ بنیاد کے لئے وائسرائے کو علی گڑھ مدعو کررہے ہیں تو دوسری طرف پاور پلے میں ان کے خلاف سازشیں بھی ہوئیں۔ پروفیسر سجا د نے کہا کہ سرسید کو ان کے عہد کے پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔ ان کی تمام سرگرمیاں مخصوص حالات اور پس منظر رکھتی ہیں، پس منظر کو سمجھے بغیر سرسید کو نہیں سمجھا جاسکتا۔ انھوں نے ڈاکٹر اطہر فاروقی کے ترجمہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ پروفیسر افتخار عالم خاں کی ایک دیگر تصنیف ”رفقائے سرسید“ کا بھی ترجمہ انگریزی میں ہونا چاہئے تاکہ سرسید کی فعال زندگی کے پوشیدہ پہلو دنیا کے سامنے آسکیں۔ڈاکٹر راحت ابرار نے پروفیسر افتخار عالم خاں (سرسید: درونِ خانہ) اور مولوی سید افتخار عالم مارہروی (محمدن کالج ہسٹری یعنی تاریخ مدرسۃ العلوم مسلمانان) کا ایک تقابلی جائزہ پیش کیا۔ انھوں نے کہاکہ ڈاکٹر اطہر فاروقی نے سرسید: درونِ خانہ کا انگریزی ترجمہ کرکے ایک اہم فریضہ انجام دیا ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کتاب کا ہندی زبان میں ترجمہ کراکے شائع کیا جائے۔پینل مباحثہ کے اختتام پر توقیر حسین نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande