جمعہ تک نامزد ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کی گئی تو زبردست احتجاج کیا جائے گا: روشن آنند
پٹنہ، 18 جون (ہ س)۔ پٹنہ میں گیان بندو جی ایس اکیڈمی کے ڈائریکٹر روشن آنند نے خان گلوبل اسٹڈیز کے بانی فیصل خان عرف خان سر سمیت کئی افراد پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روشن آنند نے جمعرات کے روز واضح ان
جمعہ تک نامزد ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کی گئی تو زبردست احتجاج کیا جائے گا: روشن آنند


پٹنہ، 18 جون (ہ س)۔ پٹنہ میں گیان بندو جی ایس اکیڈمی کے ڈائریکٹر روشن آنند نے خان گلوبل اسٹڈیز کے بانی فیصل خان عرف خان سر سمیت کئی افراد پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روشن آنند نے جمعرات کے روز واضح انتباہ دیا کہ اگر پولیس نے جمعہ کی دوپہر 12 بجے تک نامزد ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی تو زبردست احتجاج کیا جائے گا۔

روشن آنند نے اپنے چھوٹے بھائی پرنس یادو کی مشتبہ موت، جھوٹے بہانوں کے تحت قید کرنے اور جیل کے اندر ان کے قتل کی کوشش معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے قدم کنوا ں تھانہ میں تحریری درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں انہوں نے فیصل خان عرف خان سر، ڈاکٹر راماشنکر پرساد، کنہیا کمار سنگھ اور دیگر پر مجرمانہ سازش رچنے کا الزام لگایا ہے۔

روشن نے اپنی درخواست میں کہا کہ وہ مصلح پور ہاٹ میں گیان بندو جی ایس اکیڈمی چلاتے ہیں اور فیصل خان کا کوچنگ انسٹی ٹیوٹ ان کے بغل میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2 جون 2026 کی رات دونوں اداروں کے عملے کے درمیان پوسٹر ہٹانے پر تنازعہ ہوا جس کے نتیجے میں جھگڑا ہوا اور ایک گارڈ زخمی ہوگیا۔ حالانکہ روشن کا دعویٰ ہے کہ اس وقت نہ تو وہ، ان کا بھائی پرنس یادو اور نہ ہی ابھیشیک جائے وقوعہ پر موجود تھے اور نہ ہی اس تنازعہ کا علم تھا۔

روشن کی درخواست کے مطابق اس واقعے کے بعد ان کے خلاف سازش رچی گئی اور انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر جیل بھیج دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں 15 جون کو جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد وہ اپنے آبائی گاؤں گئے، جہاں انہوں نے اپنے بھائی پرنس یادو کی آخری رسومات اور دیگر مذہبی رسومات ادا کیں۔ گاؤں سے واپس آنے کے بعد وہ سیدھے قدم کنواں تھانہ گئے اور تحریری شکایت درج کرائی۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پٹنہ پولیس خان کے خلاف کارروائی کرنے سے ڈرتی ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے جے ڈی یو لیڈر سنجے جھا سے بھی منصفانہ جانچ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ تھانہ احاطے میں موجود طلباء نے روشن آنند کی حمایت میں نعرے بھی لگائے۔

روشن کے وکیل نے پولیس کے کام کرنے کے انداز پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب روشن کے خلاف شکایت درج کی گئی تو فوری کارروائی کی گئی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا، لیکن اب جب کہ وہ خود شکایت کنندہ بن کر انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، ان کی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہو رہی ہے۔ وکیل نے الزام لگایا کہ انہیں تھانے کی سطح پر تعاون نہیں مل رہا ہے اور پولیس افسران ’’اوپر سے دباؤ‘‘ کا حوالہ دے رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande