جموں میں منشیات مخالف کارروائیوں کے دوران بین الاقوامی نیٹ ورک کے شواہد سامنے آئے ہیں ۔ایس ایس پی
جموں, 18 جون (ہ س)۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) جموں جوگیندر سنگھ نے کہا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اب محض قانون و انتظام کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے پیچھے نارکو ٹیررزم کا ایک خطرناک اور منظم نیٹ ورک سرگرم ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو پہلے م
Ssp


جموں, 18 جون (ہ س)۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) جموں جوگیندر سنگھ نے کہا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اب محض قانون و انتظام کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے پیچھے نارکو ٹیررزم کا ایک خطرناک اور منظم نیٹ ورک سرگرم ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو پہلے منشیات کا عادی بنایا جاتا ہے اور بعد ازاں انہیں جرائم اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔جمعرات کو جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایس پی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں منشیات سے متعلق دو بڑے معاملات کی تحقیقات کے دوران بین الاقوامی نیٹ ورک کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جموں پولیس کی ایک ٹیم پنجاب بھی گئی تھی اور وہاں کیے گئے آپریشن سے متعلق حقائق کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بدنام زمانہ اسمگلر گلزار احمد عرف لؤ گجر کی گرفتاری کے بعد اس کے نیٹ ورک کی تحقیقات سے واضح ہوا کہ یہ صرف منشیات کی اسمگلنگ کا معاملہ نہیں بلکہ ایک منظم نارکو ٹیرر نیٹ ورک ہے، جس کے روابط سرحد پار عناصر سے جڑے ہوئے ہیں۔ایس ایس پی کے مطابق پنجاب کے امرتسر میں گرفتار ملزمان کے قبضے سے منشیات، نقد رقم اور گاڑیوں کے علاوہ ایک اے کے-47 رائفل، ایک اے کے-56 رائفل، ایک پستول اور بڑی تعداد میں زندہ کارتوس برآمد کیے گئے، جو دشمن ملک کی سازش اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس نیٹ ورک کے تحت پنجاب سے جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع میں منشیات کی سپلائی کی جا رہی تھی۔ سانبہ کے رکھ امب ٹلی اور رکھیا جبکہ جموں کے بشنہ اور آر ایس پورہ علاقوں سمیت کٹھوعہ کے بعض علاقوں کو ہاٹ اسپاٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

جوگیندر سنگھ نے کہا کہ نشہ مکت جموں مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے تحت پولیس نہ صرف سپلائی چین کو توڑنے بلکہ منشیات کی مانگ کم کرنے کے لیے بھی نئی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب منشیات استعمال کرنے والوں اور چھوٹے پیمانے پر منشیات فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ایس ایس پی کے مطابق 16 جون تک این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت 382 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 140 مقدمات منشیات استعمال کرنے والوں اور چھوٹے پیڈلروں سے متعلق ہیں، جبکہ سپلائی چین سے وابستہ تقریباً 20 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande