
ممبئی، 18 جون (ہ س)۔ ممبئی کے سابق کارپوریٹر ابھیشیک گھوسالکر قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ممبئی کی سیشن عدالت نے جمعرات کو اس مقدمے سے متعلق دو مشتبہ ملزمان کے پولی گراف ٹیسٹ کی منظوری دے دی، جبکہ ایک مشتبہ ملزم امریندر مشرا کے پولی گراف ٹیسٹ کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ عدالت نے یہ فیصلہ اس بنیاد پر سنایا کہ امریندر مشرا نے ٹیسٹ کروانے کے لیے اپنی رضامندی دینے سے انکار کر دیا تھا۔اس مقدمے کی سماعت سیشن عدالت کی خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج اجیت یادو کے روبرو ہوئی۔ سماعت کے دوران سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے عدالت میں درخواست پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ امریندر مشرا، میہول پاریکھ اور ریان گور کے پاس ابھیشیک گھوسالکر قتل کیس سے متعلق اہم معلومات موجود ہو سکتی ہیں، لہٰذا مقدمے کی حقیقت سامنے لانے کے لیے تینوں کے پولی گراف ٹیسٹ کی اجازت دی جائے۔سماعت کے دوران میہول پاریکھ اور ریان گور نے رضاکارانہ طور پر پولی گراف ٹیسٹ کروانے پر آمادگی ظاہر کی۔ دونوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس ٹیسٹ کی نوعیت، ممکنہ نتائج اور اس کے قانونی پہلوؤں کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے ان دونوں کے پولی گراف ٹیسٹ کی منظوری دے دی۔ تاہم تیسرے مشتبہ ملزم امریندر مشرا نے پولی گراف ٹیسٹ کرانے سے صاف انکار کر دیا۔ بھارتی قانون کے مطابق کسی شخص کی رضامندی کے بغیر ایسا ٹیسٹ نہیں کیا جا سکتا، اسی بنیاد پر عدالت نے سی بی آئی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے امریندر مشرا کے پولی گراف ٹیسٹ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔قابل ذکر ہے کہ سابق کارپوریٹر ابھیشیک گھوسالکر کو 8 فروری 2024 کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ دہیسر میں مورس نرونہا کے دفتر میں فیس بک لائیو پروگرام کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ پرانے تنازع کے سبب مورس نرونہا نے لائیو نشریات کے دوران گھوسالکر پر فائرنگ کی اور بعد ازاں خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پورے مہاراشٹر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ بعد ازاں تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ حملے میں استعمال ہونے والی پستول مورس نرونہا کے نجی محافظ امریندر مشرا کی تھی۔مقدمے کی تفتیش پر مختلف سوالات اٹھنے کے بعد بمبئی ہائی کورٹ کی ہدایت پر یہ معاملہ سی بی آئی کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ فی الحال سی بی آئی قتل کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے۔ تفتیشی ایجنسی کو امید ہے کہ منظور شدہ پولی گراف ٹیسٹوں سے اہم سراغ حاصل ہوں گے، جس سے قتل کے پس پردہ سازش اور حقائق سامنے لانے میں مدد مل سکتی ہے۔دریں اثنا، گھوسالکر خاندان اور ان کے حامیوں نے امید ظاہر کی ہے کہ سی بی آئی کی جاری تحقیقات اور پولی گراف ٹیسٹ کے نتائج کے ذریعے اس قتل کی مکمل سازش بے نقاب ہوگی اور ذمہ دار افراد قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے