
کولکاتا، 18 جون (ہ س)۔ ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر اروپ بسواس نے ایک پرائیویٹ بینک کی سینٹرل پلازہ برانچ کے منیجر کو ایک خط لکھ کر پارٹی کے بینک اکاونٹ سے کسی بھی قسم کے مالی لین دین کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں، انہوں نے اپنی شناخت آل انڈیا ترنمول کانگریس کے خزانچی کے طور پر کی اور درخواست کی کہ پارٹی اکاونٹ کی حفاظت کے لیے لین دین کو روک دیا جائے۔
تاہم اروپ بسواس کے اس اقدام سے پارٹی کے اندر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ سبھاشیش چکرورتی کو 5 جون کو ترنمول کانگریس کی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ میں پارٹی کا نیا خزانچی بنانے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں، اروپ بسواس کے خزانچی کے طور پر بینک کو خط بھیجنے کے اختیار کو لے کر ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اروپ بسواس کا خط 16 جون کا ہے، خط میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے اندر حالات اس وقت غیر مستحکم ہیں،پارلیمانی اور قانون ساز جماعتوں کے اندر پھوٹ پڑ گئی ہے اور پارٹی کے انتخابی نشان اور فنڈز کے کنٹرول کے حوالے سے پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔
خط میں بینک انتظامیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ تنازعہ کی صورتحال واضح ہونے تک پارٹی کے بینک اکاونٹ سے ہر قسم کی لین دین روک دی جائے، تاکہ پارٹی فنڈز محفوظ رہیں اور کسی قسم کی مالی بے ضابطگی کا امکان نہ رہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اروپ بسواس کا خط ترنمول کانگریس کے اندر جاری تنظیمی تنازعہ کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ اس سے پارٹی کے مالی حقوق اور قانون سازی کی نمائندگی پر بھی ایک نیا تنازعہ کھڑا ہونے کا امکان ہے۔
فی الحال اس معاملے پر پارٹی قیادت کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن اروپ بسواس کے اس قدم نے ترنمول کانگریس کی اندرونی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی