
منی پور میں کوکی زخمیوں کو لے کر ریمس کے باہر مظاہرہ تیز، ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے گئے
امپھال، 17 جون (ہ س)۔ امپھال میں واقع ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ریمس) کے باہر منگل کی دیر رات تک احتجاجی مظاہرہ جاری رہا۔ مظاہرین حال ہی میں ہوئے تصادم میں زخمی ہونے والے تین کوکی نوجوانوں کو اسپتال سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ صورتِ حال کشیدہ ہونے پر سیکورٹی فورسز کو ہجوم پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے۔
واضح رہے کہ گزشتہ پیر کے روز ہونے والی فائرنگ میں تین نوجوان زخمی ہوئے تھے، جنہیں ریمس میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں لوگ پیر کے روز ہی ریمس کیمپس میں پہنچ گئے اور زخمی نوجوانوں کا علاج نہیں کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ صورتِ حال کو بے قابو ہوتے دیکھ کر پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغ کر مظاہرین کو منتشر کیا۔ ایسے میں ایک بار پھر گزشتہ رات زخمی نوجوانوں کا ریمس میں علاج کیے جانے کو لے کر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرین کی بڑی تعداد منگل کی شام سے ہی اسپتال کیمپس کے قریب جمع ہو گئی تھی۔ ان کا الزام تھا کہ کانگ پوک پی ضلع میں حال ہی میں ہونے والی فائرنگ میں زخمی ہوئے تین کوکی نوجوانوں کو ریمس میں داخل کیا گیا ہے، جس کی وہ مخالفت کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے اسپتال انتظامیہ سے ملاقات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مریضوں کو کب منتقل کیا جائے گا۔
میٹنگ کے بعد مظاہرین کے نمائندوں نے بتایا کہ اسپتال انتظامیہ نے مریضوں کو دوسری جگہ بھیجنے کا عمل شروع ہونے اور آدھی رات تک انہیں منتقل کیے جانے کی معلومات دی ہے۔ تاہم، اس یقین دہانی سے مظاہرین مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنی تحریک جاری رکھی۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ حال ہی میں لیلون ویفیئی گاوں سے اغوا کیے گئے چھ ناگا شہریوں کے قتل کو لے کر لوگوں میں شدید غم و غصہ ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اس معاملے میں اب تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے، جبکہ رہا کرائے گئے یرغمالیوں نے اغوا میں ملوث افراد کے بارے میں معلومات دی ہیں۔ ایسے ماحول میں زخمی کوکی نوجوانوں کو امپھال لا کر داخل کیے جانے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ لیلون ویفیئی اور کونسا کھل گاوں کے قریب ہونے والے مبینہ تصادم میں زخمی تین کوکی نوجوانوں کو علاج کے لیے ریمس میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس کے بعد کئی تنظیموں نے ان کے اسپتال میں داخل ہونے کی مخالفت شروع کر دی اور الزام لگایا کہ زخمی نوجوان شہریوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث تھے۔اس دوران، مظاہرین تنظیموں کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ یمنام کھیم چند سنگھ سے بھی ملاقات کر کے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کے مطابق وزیر اعلیٰ نے مریضوں کو اسپتال سے منتقل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس کے باوجود منگل کی دیر رات تک مریض ریمس میں ہی موجود رہے، جس سے مظاہرہ مزید تیز ہو گیا۔
ریمس انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اسپتال کی ذمہ داری تمام مریضوں کو بغیر کسی بھید بھاو کے علاج فراہم کرنا ہے۔ انتظامیہ نے صحت کی خدمات کو بلا رکاوٹ برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ اسپتال کیمپس اور آس پاس کے علاقوں میں بھاری سیکورٹی فورسز تعینات ہیں۔ انتظامیہ نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن