
نئی دہلی، 17جون(ہ س)۔عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران تین ہندوستانیوں کی ہلاکت کے معاملے پر ہندوستان کی جانب سے سخت ناراضگی کا اظہار کریں۔ اروند کیجریوال نے ایک ویڈیو پیغام، جو انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا، میں وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ فرانس میں ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں، لہٰذا ہمت دکھائیں اور تین ہندوستانیوں کی ہلاکت پر ہندوستان کے سخت احتجاج اور غصے کو ان تک پہنچائیں۔ ٹرمپ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی ہمت دکھائیں۔ آپ نے تین ہندوستانیوں کی ہلاکت پر نہ ایک ٹویٹ کیا اور نہ ہی مرحومین کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی، آخر کیوں؟ اب ہندوستان کو ایک کمزور نہیں بلکہ ایک مضبوط وزیراعظم کی ضرورت ہے۔ اروند کیجریوال نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ آج وزیراعظم مودی کی فرانس میں ٹرمپ کے ساتھ ون ٹو ون ملاقات ہے۔ آپ ٹرمپ سے صاف الفاظ میں کہیے کہ ان کے میزائل حملے میں ہمارے تین ہندوستانی بے رحمی سے مارے گئے ہیں۔ انہیں ہندوستان کے 140 کروڑ عوام کا واضح پیغام دے دیجیے کہ ہندوستانی عوام اس واقعے پر شدید ناراض ہیں۔ہندوستان ایک عظیم اور طاقتور ملک ہے اور وہ ایسی کسی بھی حرکت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔انہوں نے وزیراعظم سے مزید کہا کہ ٹرمپ نے تین ہندوستانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا لیکن آپ نے ایک ٹویٹ تک نہیں کیا، نہ کوئی تعزیتی پیغام دیا اور نہ ہی ان کی روح کے سکون کے لیے دعا کی۔ہمیں ایک طاقتور اور بہادر وزیراعظم چاہیے۔ ہمیں ایسا وزیراعظم نہیں چاہیے جو کمزور ہو یا خاموش رہے۔ آج آپ کو ہندوستانی عوام کے غصے اور ان کے دکھ کو ٹرمپ کے سامنے رکھنا ہوگا۔ صاف الفاظ میں ٹرمپ کو متنبہ کیجیے کہ امریکہ کو ہندوستانی عوام سے معافی مانگنی ہوگی، ورنہ ہندوستان جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اروند کیجریوال نے نیٹ) امتحان کے حوالے سے 22 جون تک پورے ہندوستان میں ٹیلیگرام ایپ پر پابندی لگانے کے فیصلے پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی نیت ہی پیپر لیک روکنے کی نہیں ہے، اسی لیے اس قسم کے بے معنی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ فوجی طیاروں سے پرچہ منتقل کرنا یا ٹیلیگرام بند کرنا، کیا ان اقدامات سے پیپر لیک رک جائیں گے؟ بالکل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک ایک اربوں روپے کا کاروبار بن چکا ہے اور اس کا پیسہ اوپر تک پہنچتا ہے۔ اگر پیپر لیک کا سلسلہ بند کر دیا جائے تو پھر ارکانِ اسمبلی (ایم ایل اے) اور ارکانِ پارلیمنٹ (ایم پی) خریدنے کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais