کم عمر لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر بھگانا سنگین جرم، سات سال قید کی سزا کی گنجائش : آئی پی ایس رشی کیش شندے
بیڑ، 17 جون (ہ س)۔ محبت اور جذبات کا احترام اپنی جگہ اہم ہے، لیکن قانون کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے کم عمر لڑکے یا لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر بھگا لے جانا یا ان کے ساتھ فرار ہونا ایک سنگین اور قابلِ سزا جرم ہے۔ یہ انتباہ امباجوگائی کے سب ڈویژنل پولیس ا
کم عمر لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر بھگانا سنگین جرم، سات سال قید کی سزا کی گنجائش : آئی پی ایس رشی کیش شندے


بیڑ، 17 جون (ہ س)۔ محبت اور جذبات کا احترام اپنی جگہ اہم ہے، لیکن قانون کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے کم عمر لڑکے یا لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر بھگا لے جانا یا ان کے ساتھ فرار ہونا ایک سنگین اور قابلِ سزا جرم ہے۔ یہ انتباہ امباجوگائی کے سب ڈویژنل پولیس افسر رشی کیش شندے (آئی پی ایس) نے دیا ہے۔ نوجوان نسل میں قانونی شعور بیدار کرنے کے مقصد سے بیڑ ضلع پولیس انتظامیہ کی جانب سے امباجوگائی سب ڈویژن میں خصوصی بیداری مہم شروع کی گئی ہے، جس کے تحت ’’محبت ہو... مگر فیصلہ سمجھداری کا ہو‘‘ کا اہم پیغام دیا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق ملک میں نافذ نئے قانون، یعنی بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 137 (2) کے تحت کم عمر لڑکی کو بہلا پھسلا کر لے جانا، اغوا کرنا یا اس کے ساتھ فرار ہونا انتہائی سنگین اور قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس جرم کے لیے قانون میں سات سال تک سخت قید اور جرمانے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ نے مہم کے ذریعے نوجوانوں کو خبردار کیا ہے کہ ایک غلط فیصلہ پوری زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں ملوث ہونے پر پولیس مقدمہ درج ہوتا ہے اور مستقل مجرمانہ ریکارڈ بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تعلیم، ملازمت اور مستقبل کے دیگر مواقع شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔پولیس کے مطابق اس قسم کے واقعات کے خاندانی اور نفسیاتی اثرات بھی نہایت سنگین ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات سے خاندانوں کی سماجی عزت و وقار متاثر ہوتا ہے اور رشتوں میں مستقل دراڑ پیدا ہو جاتی ہے۔ قانونی کارروائی کا سامنا کرنے والے نوجوان ذہنی دباؤ، مایوسی اور پشیمانی کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ کم عمر لڑکیوں کی تعلیم اور مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔سب ڈویژنل پولیس افسر رشی کیش شندے نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ عمر کے اس مرحلے میں جذبات پر قابو رکھنا ضروری ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم، کیریئر اور اپنے اہداف کے حصول کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ اگر کسی بھی قسم کا ذہنی دباؤ، الجھن یا مسئلہ درپیش ہو تو گھر کے قابلِ اعتماد افراد، اساتذہ یا براہِ راست پولیس سے رابطہ کر کے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں والدین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول میں گفتگو کریں، ان کے بدلتے رویّے، آن لائن سرگرمیوں اور موبائل فون کے استعمال پر اعتماد کے ساتھ نظر رکھیں تاکہ بچوں کا مستقبل محفوظ اور روشن بنایا جا سکے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande