ریاست میں کھلے اور غیر محفوظ کنویں جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں: ڈاکٹر پرشانت
ممبئی، 17 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر میں کھلے اور غیر محفوظ کنوؤں کے باعث پیش آنے والے جان لیوا حادثات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ حال ہی میں شولاپور ضلع کی مالشیراس تحصیل میں عقیدت مندوں سے بھرا ایک پک اپ ٹرک سڑک کنارے واقع کنویں میں گر گیا، جس کے نتیجے میں
Civic Maha Open Wells Safety


ممبئی، 17 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر میں کھلے اور غیر محفوظ کنوؤں کے باعث پیش آنے والے جان لیوا حادثات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ حال ہی میں شولاپور ضلع کی مالشیراس تحصیل میں عقیدت مندوں سے بھرا ایک پک اپ ٹرک سڑک کنارے واقع کنویں میں گر گیا، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ اس المناک حادثے نے پورے ریاستی نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس سے قبل بھی ریاست کے مختلف علاقوں میں بچے، کسان، عام شہری اور جنگلی جانور کھلے کنوؤں میں گرنے کے باعث جان گنوا چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر حادثے کے بعد صرف افسوس کا اظہار کافی نہیں، بلکہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ریاست بھر میں ہزاروں کنویں آج بھی بغیر کسی حفاظتی انتظام کے کھلے پڑے ہیں۔ متعدد مقامات پر نہ حفاظتی دیواریں موجود ہیں، نہ آہنی جال، نہ رکاوٹیں اور نہ ہی انتباہی بورڈ نصب کیے گئے ہیں۔ خاص طور پر سڑکوں کے کنارے واقع کنویں موت کے خطرناک جال میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔اگرچہ دیہی علاقوں میں کنویں پانی اور زندگی کا اہم ذریعہ ہیں، تاہم ان کی حفاظت کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ بارش کے موسم میں گھاس اور جھاڑیوں کی وجہ سے کنوؤں کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ رات کے وقت یا کم روشنی میں حادثات کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف انسان بلکہ مویشی اور جنگلی حیات بھی متاثر ہو رہی ہے۔ماہرین کے مطابق ریاست بھر میں کنوؤں کا خصوصی حفاظتی سروے، خطرات کی نشاندہی (رسک میپنگ)، حفاظتی رکاوٹوں اور آہنی جالوں کی تنصیب، انتباہی سائن بورڈز اور گرام پنچایت سطح پر باقاعدہ معائنہ ضروری ہے۔ اس کے علاوہ منریگا اور دیگر سرکاری اسکیموں کے تحت کنوؤں کی حفاظت کے لیے الگ فنڈ مختص کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر پرشانت رویندر سنکر نے کہا ہے کہ کھلے اور غیر محفوظ کنوؤں کا مسئلہ صرف دیہی ترقی یا آبی وسائل تک محدود نہیں بلکہ براہ راست انسانی جانوں کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ ہر حادثے کے بعد چند دن بحث ہوتی ہے اور پھر معاملہ فراموش کر دیا جاتا ہے، لیکن اس لاپروائی کی قیمت بے گناہ شہری اپنی جانوں کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر وزیر اعلیٰ کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی گئی ہے، جس میں ریاست گیر کنواں تحفظ مہم شروع کرنے اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سنکر کے مطابق اب حادثات کے بعد ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے پیشگی حفاظتی اقدامات پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، ورنہ ریاست بھر میں پھیلے یہ غیر محفوظ کنویں مزید کتنے خاندانوں کی خوشیاں چھین لیں گے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande