
رائے پور، 17 جون (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک سابق ضلع پنچایت نائب صدر کو منگل اور بدھ کی درمیانی رات چھتیس گڑھ کے کوریا ضلع کے سونہت تھانہ علاقے کے تحت نوگئی گاؤں میں زندہ جلا دیا گیا۔ الزام ہے کہ ریت کی کان کنی کی صنعت سے وابستہ لوگوں نے ان کی فارچیونر کار میں پیٹرول چھڑک کر ان کے گھر کے سامنے آگ لگا دی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
اس واقعے میں شدید طور پر جھلس گئے بی جے پی لیڈر کے بھائی اور پیشے سے استاد کی امبیکاپور میں علاج کے دوران موت ہو گئی، جب کہ دو دیگر زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے رائے پور ریفر کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس نے اب تک چار ملزمین اکشے ترپاٹھی، وشال ترپاٹھی، ستیہ پرکاش ترپاٹھی اور مانو ترپاٹھی کو گرفتار کیا ہے۔ باقی تین مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق واقعے میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ کار کے اندر جل کر ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت بھرت سنگھ عرف للا سنگھ کے طور پر کی گئی ہے، جو کہ بی جے پی لیڈر اور ضلع پنچایت کے سابق نائب صدر ہیں۔ ان کے بھائی ناگیندر سنگھ جو کہ ایک استاد تھے، کی بھی موت ہو گئی ہے۔
متاثرہ کے اہل خانہ کی شکایت اور ابتدائی تفتیش کی بنیاد پر پولیس نے ملزم کو نامزد کیا ہے۔ اس معاملے میں کلیدی ملز م کے طور پر مقامی بی جے پی لیڈر اور ریت مافیا کی شخصیت منوج ترپاٹھی کا نام سامنے آ رہا ہے ۔ منوج ترپاٹھی کے خاندان کے ارکان اور ریت کے کاروبار میں ان کے قریبی لوگوں کو بھی اس حملے میں شریک ملزم نامزد کیا گیا ہے، جنہوں نے ڈمپر سے فارچیونر کار کا راستہ روکا تھا۔
پولیس کی تحقیقات میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ متوفی بی جے پی لیڈر بھرت سنگھ کے بھتیجے کے ذریعہ نوگئی میں لئے گئے ریت گھاٹ کے ٹھیکے کے تعلق سے اس کا منوج ترپاٹھی کے گروپ کے ساتھدیرینہ تنازعہ تھا، جس کے نتیجے میں یہ ہولناک قتل ہوا۔ سونہت پولیس نے منوج ترپاٹھی اور دیگر ملزمین کے خلاف قتل اور آتش زنی سمیت مختلف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
سونہت پولیس نے بتایا کہ بی جے پی لیڈر اور سابق ضلع پنچایت نائب صدر بھرت سنگھ عرف للا سنگھ کے رشتہ دار ناگیندر سنگھ کے بیٹے نے سونہت کے نوگئی گاؤں میں نوگئی ریت گھاٹ کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔ اس کا بی جے پی لیڈر منوج ترپاٹھی کے خاندان کے ساتھ ریت کی غیر قانونی کانکنی اور اسمگلنگ کو لے کر دیرینہ تنازعہ تھا۔ آدھی رات کے قریب کچھ لوگوں نے بھرت سنگھ کے گھر کو گھیر لیا۔
جھگڑا بڑھنے کے بعد ملزمین نے فارچیونر کار کو ڈمپر سے روکا اور پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ کار میں بھرت سنگھ، ان کے بھائی اور استاد ناگیندر سنگھ، رائے پور کے رہنے والے ویرو سنگھ اور ایک اور شخص سوار تھا۔
حملہ آوروں نے گاڑی میں سوار افراد کو جان بچا کر بھاگنے کا موقع نہیں دیا جس کی وجہ سے وہ شعلوں کی زد میں آ گئے۔ کار میں سوار ایک مسافر بھرت سنگھ شدید جھلس گئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ ان کے بھائی ناگیندر سنگھ، ویرو سنگھ اور ایک اور شخص بھی شدید جھلس گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
زخمیوں کو علاج کے لیے فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے امبیکاپور ریفر کر دیا گیا۔ ٹیچر ناگیندر سنگھ کی بھی علاج کے دوران موت ہو گئی۔ ویرو سنگھ اور ایک اور شدید زخمی شخص کو بہتر علاج کے لیے رائے پور ریفر کیا گیا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سرگوجا رینج کے انسپکٹر جنرل دیپک جھا دیر رات کوریا پہنچے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد