
نئی دہلی، 12 جون (ہ س)۔
ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) نے اتر پردیش میں فیروز آباد ریلوے اسٹیشن کے قریب لکھنو¿-نئی دہلی شتابدی ایکسپریس پر پتھراو¿ کے واقعہ کے سلسلے میں دو ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ دونوں کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ہوئی۔
ریلوے حکام کے مطابق ٹرین نمبر 12003 لکھنو¿-نئی دہلی شتابدی ایکسپریس پر 11 جون کو شام 7:18 کے قریب اس وقت پتھراو¿ کیا گیا جب وہ پریاگ راج ڈویژن کے تحت فیروز آباد اسٹیشن کے قریب پہنچ رہی تھی۔ ریلوے پروٹیکشن فورس اور متعلقہ حکام نے تحقیقات شروع کر دیں۔ اسٹیشن اور گردونواح کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ملزمین کی شناخت کی گئی جس کے بعد دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ریلوے نے مسافروں کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ واقعے میں کسی مسافر کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ تاہم پتھراو¿ کے واقعات کو ریلوے املاک اور مسافروں کی حفاظت کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جمعرات کی شام کچھ شرپسندوں نے لکھنو¿ نئی دہلی شتابدی ایکسپریس کو مکھن پور اور فیروز آباد ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان پائیمیشور پھاٹک کے قریب نشانہ بنایا۔ واقعہ کے وقت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت بھی ٹرین کی E-1 کوچ میں سفر کر رہے تھے۔ تاہم اس واقعے میں نہ تو وہ اور نہ ہی کوئی دوسرا مسافر زخمی ہوا۔
جب ٹرین ٹنڈلا اسٹیشن پر پہنچی تو آر پی ایف کی ٹیم نے کوچ کا معائنہ کیا اور صرف بیرونی شیشے کو نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد پولیس، ایل آئی یو اور دیگر سیکیورٹی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور تحقیقات کا آغاز کردیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آدتیہ لنگھے کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سات رکنی پولیس ٹیم تشکیل دی گئی تھی، اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کی حفاظت سے سمجھوتہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ