این سی پی اور کانگریس کے انضمام کی قیاس آرائیوں پر متضاد بیانات
آئین کے تحفظ کے لیے ہم خیال جماعتوں کے اتحاد پر زور ،متضاد دعوؤں سے مہاوکاس اگھاڑی میں نئی سیاسی بحث چھڑ گئیممبئی ، 12 جون (ہ س)ڈ مہاراشٹر کی سیاست میں جمعہ کو اس وقت نئی بحث چھڑ گئی جب نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) اور انڈین نیشنل کانگ
این سی پی اور کانگریس کے انضمام کی قیاس آرائیوں پر متضاد بیانات


آئین کے تحفظ کے لیے ہم خیال جماعتوں کے اتحاد پر زور ،متضاد دعوؤں سے مہاوکاس اگھاڑی میں نئی سیاسی بحث چھڑ گئیممبئی ، 12 جون (ہ س)ڈ مہاراشٹر کی سیاست میں جمعہ کو اس وقت نئی بحث چھڑ گئی جب نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) اور انڈین نیشنل کانگریس کے ممکنہ انضمام کے حوالے سے دونوں جماعتوں کے سینئر رہنماؤں نے متضاد بیانات دیے۔ این سی پی (شرد چندر پوار) کے ریاستی صدر ششی کانت شندے نے ان قیاس آرائیوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان انضمام کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ششی کانت شندے نے کہا کہ گردش کرنے والی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ کانگریس کی جانب سے ایسی کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی پارٹی کے اندر اس موضوع پر کوئی گفتگو ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسی کوئی تجویز موجود ہوتی تو پارٹی کی اعلیٰ قیادت یقیناً انہیں اس بارے میں آگاہ کرتی۔ گزشتہ دو دنوں سے دونوں جماعتوں کے ممکنہ انضمام کی خبروں نے سیاسی حلقوں میں کافی چہ میگوئیاں پیدا کر رکھی تھیں۔این سی پی (شرد چندر پوار) کے سینئر رہنما انکش کاکاڑے نے بھی پارٹی کے سرکاری موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحفظ اور حکمران جماعت پر جمہوری نگرانی برقرار رکھنے کے لیے سیکولر اور ترقی پسند جماعتوں کا متحد ہونا ضروری ہے، تاہم اس نظریاتی ہم آہنگی کو باضابطہ انضمام سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحفظ کے لیے ہم خیال جماعتوں کے اتحاد کی ضرورت پر اتفاقِ رائے ضرور موجود ہے، لیکن انضمام کی کوئی رسمی تجویز موصول نہیں ہوئی۔ اگر مستقبل میں ایسی کوئی تجویز سامنے آتی ہے تو پارٹی کی اعلیٰ قیادت کانگریس کے وسیع تر سیاسی موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر غور کرے گی۔دوسری جانب مہاراشٹر کانگریس کے سابق صدر نانا پٹولے نے نئی دہلی روانگی سے قبل ہوائی اڈے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں شرد پوار کی جانب سے انضمام کی تجویز دی گئی تھی، تاہم بعض حالات کے باعث اس عمل میں تاخیر ہوئی۔ نانا پٹولے نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں، جب آئینی ڈھانچے کو کمزور کیا جا رہا ہے، تمام سیکولر جماعتوں کا متحد ہونا ضروری ہے تاکہ ووٹوں کی تقسیم روکی جا سکے اور ملک کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق سیاسی اتحاد اور انضمام کی سمت میں ایک عمل جاری ہے۔ششی کانت شندے اور نانا پٹولے کے متضاد بیانات کے بعد ریاست میں سیاسی بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے اور مہاوکاس اگھاڑی کے اتحادیوں کے درمیان اندرونی ہم آہنگی سے متعلق بھی کئی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande