
لوکیش چندرا
ہندی سنیما کے بہترین اداکاروں میں شمار کیے جانے والے لوکیش چندر منوج باجپئی نے اپنے تین دہائیوں پر محیط کیریئر میں کئی یادگار کردار ادا کیے ہیں۔ اس بار وہ فلم ”گورنر“ میں ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر ایس وینکٹ رمن کا کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔ 12 جون کو ریلیز ہونے والی یہ فلم 1991 کے معاشی بحران اور اس دوران کیے گئے اہم فیصلوں کی کہانی بیان کرتی ہے۔ فلم، کردار کی تیاری، ہدایت کاری، معاشیات، ایوارڈز، اور باکس آفس سمیت مختلف موضوعات پر منوج باجپئی کے ساتھ بات چیت کی جھلکیاں:
سوال: ایس وینکٹ ر من کے فیصلوں کو آپ کس قدر جرات مندانہ سمجھتے ہیں؟
میں اسے صرف جرات مندانہ نہیں ، بلکہ ایک دلیرانہ فیصلہ کہوں گا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ملک جس صورتحال تک پہنچ چکا ہے اس میں روایتی حل کام نہیں کریں گے۔ جس طرح ایک خاندان بحران کے دوران اپنی بچت کا استعمال کرتا ہے، اسی سوچ کو انہوں نے قومی سطح پر لاگو کیا۔ ایسے فیصلے آسان نہیں ہوتے، لیکن بعض اوقات حالات آپ کو خطرہ مول لینے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
سوال: کیا اس وقت سیاسی حمایت حاصل کرنا مشکل تھا؟
بالکل۔ ملک کا سونا گروی رکھنے جیسا فیصلہ نہ صرف معاشی مسئلہ تھا بلکہ جذباتی بھی تھا۔ عوام اور لیڈر دونوں کو اس کے لیے تیار کرنا آسان نہیں تھا۔ تاہم ملک شدید معاشی بحران سے گزر رہا تھا اور بالآخر یہ فیصلہ ملک کو بحران سے نجات دلانے میں اہم ثابت ہوا۔
سوال: کردار کی زبان اور بولنے کے انداز پر کیسے کام کیا؟
یہ سب سے مشکل پہلوو¿ں میں سے ایک تھا۔ ہمیں یہ دکھانا تھا کہ ہو جنوبی ہند سے آتے ہیں لیکن ساتھ ہی ایک تعلیم یافتہ اور سینئر بیوروکریٹ بھی ہیں۔ زبان اتنی مختلف نہیں ہو سکتی تھی کہ شائقین سے دوری بن جائے اور اتنی عام بھی نہیں کہ کردار کی شناخت ختم ہو جائے ۔ اس توازن کو برقرار رکھنے میں بہت زیادہ کوششیں کی گئیں۔
سوال: کردار کے لیے آپ کو اور کیا تیاری کرنی پڑی؟
تیاری ایک مسلسل عمل ہے۔ تحقیق، گفتگو، ویڈیوز دیکھنا، اور پڑھنا مستقل ہے۔ میں نے معاشیات کا مطالعہ نہیں کیا ہے، اس لیے مجھے اس موضوع کو سمجھنے میں وقت گزارنا پڑا۔ میں نے اپنی باڈی لینگویج اور ذہنی حالت پر بھی کام کیا، کیونکہ یہی کردار کو قابل اعتماد بناتا ہے۔
سوال: کیا آپ کو اب بھی لگتا ہے کہ اب بھی بہت سے کردار ادا کرنا باقی ہیں؟
بالکل۔ سڑک پر چلنے والا ہر شخص مجھے ایک ممکنہ کردار کے طور پر نظر آتا ہے۔ ہر شخص کی اپنی کہانی ہے۔ ان تمام کہانیوں کو جینے کے لیے شاید ایک زندگی کافی نہیں ہے۔ تاہم میں مطمئن ہوں کہ میں نے ہمیشہ مختلف کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔
سوال: ڈائریکٹر چنمے مانڈلیکر اس پروجیکٹ سے کیسے وابستہ ہوئے؟
مجھے یہ اسکرپٹ کئی سال پہلے ملی تھی۔ مجھے کہانی پسند آئی، لیکن میرے ذہن میں یہ سوال بھی تھا کہ معاشیات جیسے موضوع پر فلم کیسے بنائی جائے۔ بعد میں، میں نے چنمے کو تجویز کیا۔ انہوں نے مہینوں تحقیق کی، مصنفین کے ساتھ کام کیا، اور اسکرپٹ کو بہتر بنانے کے لیے کافی کوششیں کیں۔ ابتدائی فوٹیج دیکھنے کے بعد پوری ٹیم کا اعتماد مزید مضبوط ہوا۔
سوال: کیا فلموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخ اور معاشرے کی کہانیوں کو سامنے لائے؟
میں اسے ذمہ داری کے بجائے ذاتی انتخاب سمجھتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ شائقین ہمیشہ مستند کہانیوں سے جڑتے ہیں۔ کامیڈی ہو یا سنجیدہ موضوع، اگر یہ زندگی کی سچائی کی عکاسی کرتا ہے تو لوگ اسے محسوس کرتے ہیں۔
سوال: کیا آپ کبھی محسوس کرتے ہیں کہ پوری فلم کا دباو¿ آپ کے کندھوں پر ہے؟
میری توجہ ہمیشہ اپنی کارکردگی پر ہوتی ہے۔ میں ہمیشہ یہ سوچتا ہوں کہ کیا میں پوری ایمانداری کے ساتھ کردار کے ساتھ انصاف کر رہا ہوں۔ اپنے آپ کو دہرانے سے گریز کرنا میرے لیے ایک چیلنج اور دباو¿ دونوں ہے۔
سوال: کیا یہ فلم شائقین کو معاشیات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی؟
ضروری نہیں کہ شائقین تمام معاشی اصطلاحات کو سمجھیں لیکن وہ یہ ضرور سمجھیں گے کہ پس پردہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے فیصلے براہ راست عام لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی کے بہت سے پہلو ان فیصلوں پر منحصر ہوتے ہیں۔
سوال: 2024 میں بیرون ملک سے سونا واپس لانے کے واقعے کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ حکومتیں وقتاً فوقتاً ایسے فیصلے کرتی ہیں۔ لیکن اس کہانی کا مرکز وہ تاریخی لمحہ ہے جب ایک شخص نے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے بہت بڑا خطرہ مول لیا۔ اس فیصلے نے بعد میں بہت سی تبدیلیوں کی بنیاد رکھی۔
سوال: ایک اداکار و ہدایت کار کے ساتھ کام کرنے کے کیا فوائد ہیں؟
ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ اداکاروں کو درپیش چیلنجوں کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ چنمے خود ایک اداکار ہیں، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ایک فنکار کیمرے کے سامنے کن حالات سے گزرتا ہے۔ یہ سمجھ کام کو آسان بناتی ہے۔
س: ”ڈسپیچ“ جیسی فلم کرنے کی وجہ کیا تھی؟
کیونکہ یہ ایک بہترین فلم ہے۔ میں ہمیشہ مضبوط کرداروں اور زبردست پلاٹ والی کہانیوں کی طرف راغب ہوتا ہوں۔ آخر کار، یہی میرے لیے سب سے اہم ہے۔
س: کیا متعدد ایوارڈز حاصل کرنے کے بعد دباو¿ بڑھ جاتاہے؟
ایوارڈز اس شام تک اچھے لگتے ہیں، اس کے بعد ان کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ شوٹنگ کے دوران، آپ کو صرف کردار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ کا کام اور تیاری اہم ہے، ایوارڈ نہیں۔
س: شائقین کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟
باکس آفس کے اعداد و شمار مجھے کبھی زیادہ متاثر نہیں کرتے۔ میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ کہانی اور کردار پوری سچائی اور ایمانداری کے ساتھ ناظرین تک پہنچیں۔ اگر ناظرین فلم دیکھنے کے بعد کچھ محسوس کرتے ہیں اور اپنے ساتھ کچھ لے جاتے ہیں، تو یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ