مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں اے ٹی ایس کی بڑی کارروائی، ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث نوجوان گرفتار
مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں اے ٹی ایس کی بڑی کارروائی، ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث نوجوان گرفتار ۔ موبائل سے پاکستان سے بھیجی گئیں دستاویزات کی پی ڈی ایف فائلیں ملیں بھوپال، 12 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے ہنومان گنج تھانہ
بھوپال میں پکڑے گئے مشتبہ نوجوان کو کورٹ لے جاتی ہوئی اے ٹی ایس


مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں اے ٹی ایس کی بڑی کارروائی، ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث نوجوان گرفتار

۔ موبائل سے پاکستان سے بھیجی گئیں دستاویزات کی پی ڈی ایف فائلیں ملیں

بھوپال، 12 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے ہنومان گنج تھانہ علاقے سے جمعہ کے روز انسدادِ دہشت گردی دستے (اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ۔اے ٹی ایس) نے ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شک میں ایک نوجوان کو گرفتار کیا ہے۔ نوجوان کی شناخت محمد فراز کے طور پر ہوئی ہے۔ اے ٹی ایس نے اس کے موبائل سے پاکستان سے بھیجی گئیں مبینہ جہادی دستاویزات کی پی ڈی ایف فائلیں برآمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، اے ٹی ایس نے جمعہ کو بھوپال کے قاضی کیمپ میں واقع ننھے بی کی مسجد کے پاس چھاپہ مارا اور نوجوان محمد فراز کو گرفتار کیا۔ ملزم ایک معالج (ڈاکٹر) کے کلینک میں ملازمت کرتا تھا۔ اے ٹی ایس کو اس کی سرگرمیوں کے سلسلے میں کچھ اہم معلومات حاصل ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر نگرانی اور جانچ کی کارروائی شروع کی گئی۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ جانچ کے دوران ملزم کے موبائل فون سے پاکستان سے بھیجی گئیں کچھ مشتبہ پی ڈی ایف فائلیں اور دستاویزات برآمد ہوئی ہیں، جن کی جانچ کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق، جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزم محمد فراز مبینہ طور پر خصوصی تربیت حاصل کرنے کے مقصد سے افغانستان جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ تاہم اس سلسلے میں ابھی سرکاری طور پر تفصیلی معلومات شیئر نہیں کی گئی ہیں۔ ایجنسیاں دستیاب ڈیجیٹل شواہد اور دیگر معلومات کی بنیاد پر پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہیں۔

جانچ حکام کے مطابق، ملزم کچھ وقت سے مارشل آرٹ کی تربیت بھی لے رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے رابطوں، آن لائن سرگرمیوں اور ممکنہ غیر ملکی رابطے کی گہرائی سے جانچ کی جا رہی ہے۔ جانچ کے دوران اتر پردیش کے دیوبند میں واقع کچھ رابطوں کی معلومات بھی سامنے آئی ہیں، جن کی سچائی اور کردار کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

اے ٹی ایس حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال ملزم محمد فراز سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ جانچ ایجنسیاں یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اس کے رابطے کن افراد سے تھے، کیا اس کے ساتھ کوئی منظم نیٹ ورک سرگرم تھا اور مبینہ سرگرمیوں کے پیچھے کسی دوسرے شخص یا گروپ کا کردار تو نہیں ہے۔ جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی پورے معاملے کی اصل صورتحال واضح ہو سکے گی۔

معاملے میں ملزم کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) اور ملک مخالف سرگرمیوں سے متعلق دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو 16 جون تک ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔ اس مدت کے دوران جانچ ایجنسیاں اس سے جڑے مختلف پہلووں، رابطہ ذرائع اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی پوچھ گچھ کریں گی۔

ذرائع کے مطابق، ملزم کچھ ڈارک ایپلی کیشنز کے ذریعے مشتبہ گروپوں سے جڑا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اس کے سوشل میڈیا اکاونٹس کی بھی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔ ابتدائی جانچ میں کچھ ایسی آن لائن سرگرمیوں اور تبصروں کی معلومات سامنے آئی ہیں، جن کی جانچ ایجنسیاں سچائی اور مقصد کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہیں۔ ڈیجیٹل ریکارڈ، چیٹ ہسٹری اور آن لائن نیٹ ورک کو بھی کھنگالا جا رہا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ پوری کارروائی انتہائی خفیہ طریقے سے انجام دی گئی۔ گرفتاری کی معلومات محدود حکام تک ہی رکھی گئی تھیں اور مقامی سطح پر بھی اس کی اطلاع عام نہیں کی گئی تھی۔ اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ جانچ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد ہی معاملے کی اصل تصویر واضح ہو سکے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande