اُڑی سیکٹر میں شہید ہونے والے کولہاپور کے وکرم چوہان کی سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسوم ادا
کولہاپور، 12 جون (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے اُڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب ہونے والے ایک شدید دھماکے میں بھارتی فوج کے دو جوان شہید ہو گئے، جن میں ضلع کولہاپور کے تعلقہ شاہوواڑی کے گاؤں گونڈولی کے سپوت وکرم بال کرشن چوہان بھی شامل تھے۔ وطن ک
MARTYR MAHA URI SOLDIER FUNERAL


کولہاپور، 12 جون (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے اُڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب ہونے والے ایک شدید دھماکے میں بھارتی فوج کے دو جوان شہید ہو گئے، جن میں ضلع کولہاپور کے تعلقہ شاہوواڑی کے گاؤں گونڈولی کے سپوت وکرم بال کرشن چوہان بھی شامل تھے۔ وطن کی خاطر جان قربان کرنے والے اس بہادر جوان کی آخری رسوم آج گونڈولی میں دریائے وارنا کے کنارے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں، جہاں ہزاروں سوگوار شہریوں نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ انہیں آخری وداع کہا۔شہید وکرم چوہان نے اپنی ابتدائی تعلیم شاہوواڑی تعلقہ کے ودیامندر گونڈولی میں حاصل کی تھی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کوکرود کے یشونت کالج سے مکمل کی۔ ملک کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے وکرم چوہان فوج میں شامل ہوئے اور احمد نگر میں عسکری تربیت حاصل کی۔ اس کے بعد سال 2018 میں ان کی پہلی تعیناتی راجستھان کے سورت گڑھ میں ہوئی، جبکہ بعد میں انہیں جموں و کشمیر کے اکھنور میں تعینات کیا گیا۔ وہ اس وقت جموں و کشمیر کے اُڑی علاقے میں 8 آر آر (راشٹریہ رائفلز) کے ساتھ خدمات انجام دے رہے تھے۔شہید کا جسدِ خاکی آبائی گاؤں گونڈولی پہنچتے ہی پورا علاقہ ’’ویر جوان وکرم چوہان امر رہے‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ کولہاپور سے گاؤں تک کے راستے میں عوام کی بڑی تعداد نے ان کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہوئے پھول نچھاور کیے۔ آخری رسومات سے قبل جسدِ خاکی کو کچھ وقت کے لیے ان کی رہائش گاہ پر رکھا گیا تاکہ لوگ آخری دیدار کر سکیں۔بعد ازاں دریائے وارنا کے کنارے فوج اور پولیس کے دستوں نے فضائی فائرنگ کے ذریعے شہید کو آخری سلامی پیش کی، جس کے بعد سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اس موقع پر رکنِ اسمبلی ونئے کورے، ضلع کلکٹر ڈاکٹر وجئے راٹھوڑ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر جیسمین، سب ڈویژنل افسر سمیر شنگٹے، تحصیلدار سیما سونونے، سبھاپتی پریانکا بھوسلے، فوجی افسران، عوامی نمائندے، سابق فوجی اور اطراف کے علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں شہری موجود تھے۔وکرم چوہان کی شہادت سے خاندان کا واحد کفیل اور خوش مزاج سہارا ہمیشہ کے لیے چھن گیا۔ ان کے پسماندگان میں ضعیف والد، بڑا بھائی، تین شادی شدہ بہنیں، اہلیہ اور تین سالہ ننھی بیٹی ویرا شامل ہیں۔ آخری رسومات کے دوران ننھی ویرا اور شہید کی اہلیہ کے دردناک آہ و بکا نے وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم کر دیں اور پورا ماحول سوگ میں ڈوب گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande