
ناسک، 12 جون (ہ س) ۔ مہاراشٹر کے ناسک میں واقع ٹی سی ایس کمپنی سے متعلق مبینہ مذہب تبدیلی اور نام نہاد ’’کارپوریٹ جہاد‘‘ معاملے میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ اس مقدمے میں ملزمان کو قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے اسلام پارٹی نے پیش قدمی کرتے ہوئے ان کے دفاع کے لیے وکلاء فراہم کرنے کی اطلاع دی ہے۔ ناسک روڈ میں واقع ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ میں جج کیدار جوشی کے روبرو جمعہ کو ہونے والی سماعت کے دوران ملزمہ ندا خان سمیت دیگر دو مشتبہ افراد کی ضمانت درخواستوں پر بحث ہوئی۔ عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد سرکاری وکیل کا مؤقف سننے اور اس کے بعد 19 جون کو ضمانت درخواستوں پر فیصلہ سنانے کا حکم دیا ہے۔اس مقدمے میں ملزم دانش اعجاز شیخ کی جانب سے ایڈوکیٹ فیض وصیف نے عدالت میں دلائل پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت کے سامنے متعدد قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں۔ دانش شیخ کو گرفتاری کے بعد پہلے پولیس تحویل اور بعد ازاں عدالتی تحویل میں بھیجا گیا تھا۔ دوسری جانب ملزمہ ندا خان کی نمائندگی ایڈوکیٹ راہل کاسلیوال نے کی اور عدالت کے سامنے ان کے حق میں دلائل پیش کیے۔اس مقدمے میں پہلے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے کردار پر گفتگو ہو رہی تھی، تاہم اب مالیگاؤں کی اسلام پارٹی نے بھی ملزمان کو قانونی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسلام پارٹی کے رہنما اور سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے کہا کہ بعض عناصر اس معاملے کو جان بوجھ کر مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں متعلقہ افراد کے درمیان صرف دوستانہ تعلقات تھے۔انہوں نے بتایا کہ ملزم دانش شیخ کے اہل خانہ نے مدد کے لیے ان سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد پارٹی نے انہیں قانونی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ آصف شیخ نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر یہ معاملہ ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک لے جایا جائے گا اور اسلام پارٹی ملزمان کے ساتھ پوری مضبوطی کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس مقدمے میں ضمانت درخواستوں پر سماعت اس سے قبل دو مرتبہ ملتوی ہو چکی ہے۔ اب 19 جون کو ہونے والی آئندہ سماعت پر تمام متعلقہ حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے