
نئی دہلی، 12 جون (ہ س)۔ فلم اداکار سلمان خان نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر فلم 'کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی' کی ریلیز پر روک لگانے کی درخواست کی ہے۔ اپنی درخواست میں، سلمان خان کا کہنا ہے کہ یہ فلم 1998 کے کالے ہرن کے شکار کے واقعے سے متعلق ہے اور اس سے انکی کردار کشی کی کوشش کی جا رہی ہے۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ فلمسازوں نے فلم میں سلمان خان کی شکل کا استعمال کیا ہے، جس میں انہیں ایک ایسا بریسلٹ پہنا ہوا دکھایا گیا ہے جو سلمان خان پہنتے ہیں۔ سلمان کا مزید دعویٰ ہے کہ پروڈیوسر فلم کی تشہیر کے دوران خان کے نام کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلم کی ریلیز کالے ہرن کے شکار کے جاری مقدمات کو متاثر کر سکتی ہے اور ان کی شبیہ کو داغدار کر سکتی ہے۔
خان نے اس سے قبل پروڈیوسرز کو قانونی نوٹس بھیجا تھا جس میں فلم کی تشہیر اور ریلیز کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نوٹس میں بتایا گیا کہ کالے ہرن کے شکار کا معاملہ فی الحال راجستھان ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ معاملے کے گرد سنسنی خیزی پیدا کرنا مقدمے کی کارروائی کو متاثر کر سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ فلم 'کالا ہرن' کا پہلا پوسٹر حال ہی میں جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد آج ایک ویڈیو سامنے آئی ہے۔ فلم میں کالے ہرن کے شکار کے واقعے اور اس کے بعد ہونے والی عدالتی سماعتوں سے متعلق مناظر کو دکھایا گیا ہے۔ اس میں سلمان خان اور لارنس بشنوئی کی دشمنی کو بھی دکھایا گیا ہے۔ قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے فلم سازوں نے خان سے متاثر کردار کا نام 'ایان خان' اور گینگسٹر لارنس بشنوئی سے متاثر کردار کا نام 'شیر بشنوئی' رکھا ہے۔ اس فلم کے ہدایت کار بھارت ایس شرینیت ہیں اور امت جانی نے پروڈیوس کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد