ترنمول ایم پی پرتیما منڈل نے ’باغی خیمے‘ میں شمولیت سے انکار کیا، کہا - میںاس گروپ کا حصہ نہیں
کولکاتا، 11 جون (ہ س)۔ مغربی بنگال کے جے نگر سے ترنمول کانگریس کی لوک سبھا رکن پرتیما منڈل نے ان خبروں کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ پارٹی کے اندر مبینہ طور پر بنے 20 اراکین پارلیمنٹ کے ''باغی گروپ'' کا حصہ ہیں،
WB-TMC-MP-Pratima-Mondal-Denies-Rebel-Camp-Joining


کولکاتا، 11 جون (ہ س)۔ مغربی بنگال کے جے نگر سے ترنمول کانگریس کی لوک سبھا رکن پرتیما منڈل نے ان خبروں کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ پارٹی کے اندر مبینہ طور پر بنے 20 اراکین پارلیمنٹ کے 'باغی گروپ' کا حصہ ہیں، جو قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے ساتھ مل کر الگ پارلیمانی گروپ بنانے کی منصوبہ بندی میں شامل ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے، پرتیما منڈل نے واضح کیا کہ ان کا نام ان کے علم یا رضامندی کے بغیر اس مبینہ گروپ میں شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا،”میں اس نئے گروپ کا حصہ نہیں ہوں جسے ترنمول کانگریس کے کچھ ممبران پارلیمنٹ کی طرف سے پیش کیا جا رہا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرا نام کیوں شامل کیا جا رہا ہے۔ میں نے نہ تو کسی کاغذ پر دستخط کیے ہیں اور نہ ہی میں کسی بھی طرح سے اس گروپ سے وابستہ ہوں۔“

انہوں نے ترنمول کانگریس کی سربراہ اور مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے دہلی دورے کے دوران کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سمیت انڈیا اتحاد کے سینئر رہنماوں کے ساتھ حالیہ ملاقات پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔

پرتیما منڈل نے کہا، ”ممتا دیدی دہلی گئی تھیں اور انہوں نے سونیا گاندھی اور دیگر اتحادی رہنماو¿ں سے ملاقات کی۔ اتحاد متحد ہے اور مرکزی حکومت کے خلاف مل کرلڑائی جاری رکھے گا۔ میٹنگ کے بعد سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے بھی بات چیت کی۔“

قومی سیاست میں ممتا بنرجی کے کردار کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس کے سربراہ اپوزیشن اتحاد کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ”مجھے یقین ہے کہ اگر ممتا بنرجی آگے آکر اہم کردار ادا کرتی ہیں تو مستقبل میں اپوزیشن کی حالت اور مضبوط ہوگی ۔ عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔“

کانگریس اور ترنمول کانگریس کے درمیان ممکنہ تال میل کے بارے میں پرتیما منڈل نے کہا کہ ممتا بنرجی کا سیاسی سفر کانگریس سے شروع ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ شروع میں کانگریس کا حصہ تھیں اور بعد میں اپنی پارٹی بنائی۔ اگر وہ کبھی کانگریس میں ضم ہونا چاہتی ہیں تو یہ صرف ایک مثبت قدم ہوگا۔

ان کا یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ترنمول کانگریس کے اندر مبینہ طور پر پھوٹ پڑنے اور 20 ممبران پارلیمنٹ کے الگ ہونے والے گروپ کی تشکیل کی قیاس آرائیاں سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ تاہم کانگریس جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے ان رپورٹوں کو افواہیں قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کے 42 نشستوں والے مغربی بنگال میں پارٹی نے گزشتہ انتخابات میں 28 نشستیں جیتی تھیں، فی الحال بشیرہاٹ سیٹ خالی ہے، جس سے موثر تعداد 27 ہوگئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، تقریباً 20 ایم پی پارٹی قیادت سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں اور پارلیمنٹ میں ایک آزاد گروپ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ کئی قانون سازی کے معاملات پر این ڈی اے کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گروپ پارلیمنٹ میں آزادانہ طور پر کام کر سکتا ہے اور اہم بلوں پر این ڈی اے کی حمایت کر سکتا ہے، جس سے پارلیمانی مساوات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande