
کولکاتہ، 11 جون (ہ س)۔
سینئر ترنمول کانگریس لیڈر سکھیندو شیکھر رائے، جنہوں نے حال ہی میں راجیہ سبھا سے استعفیٰ دیا ہے، نے ایک طویل سوشل میڈیا پوسٹ میں مغربی بنگال کے حکمراں نظام اور سابق ترنمول قیادت پر سخت حملہ کیا ہے۔ ادبی حوالوں اور سیاسی تبصروں سے بھری اس پوسٹ میں انہوں نے عوامی غیض و غضب، خواتین کے تحفظ، بدعنوانی، سیاسی تکبر اور حکمرانی کی ناکامیوں کے حوالے سے سنگین الزامات لگائے۔
انہوں نے اپنے پیغام کا آغاز شاعر مائیکل مدھوسودن دت کی مشہور تصنیف میگھناد بدھ کی سطروں سے کیا اور یہ اشارہ کیا کہ ایک زمانے کی طاقتور حکومت کو اب عوامی غصے کے طوفان کا سامنا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ لوگوں کی آواز کو زیادہ دیر تک نظر انداز کرنے کے نتیجے میں حکومت کے لیے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
اپنے پیغام میں، رائے نے نام لیے بغیر، ترنمول کانگریس کی اعلیٰ قیادت اور پارٹی کی کچھ اہم شخصیات پر بھی شدید ذاتی اور سیاسی حملے کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ سیاسی پیش رفت نے حکمران کیمپ کو بحران میں ڈال دیا ہے اور اس کا وجود اب داو¿ پر لگا ہوا ہے۔
9 اگست کو کولکتہ کے آر جی کر اسپتال میں پیش آنے والے بدنام زمانہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سکھیندو شیکھر رائے نے کہا کہ اس معاملے نے ریاست بھر میں ایک بے مثال عوامی تحریک کو جنم دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاشرے کے مختلف طبقات جن میں ڈاکٹرز، وکلاء ، اساتذہ، فنکار، کھلاڑی، مزدور اور عام شہری شامل ہیں، انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلسل احتجاج کرتے رہے، لیکن حکمران اسٹیبلشمنٹ نے عوام کے جذبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست بدعنوانی، غیر قانونی بھتہ خوری، خواتین کو ہراساں کرنے، صنعت، صحت، تعلیم اور روزگار جیسے شعبوں میں مسلسل ناکامی کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام اب ان مسائل کا جواب مانگتی ہے اور سیاسی تکبر کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ