
نئی دہلی، 11 جون (ہ س)۔ کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن نے مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا سیٹ کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی کو مسترد کرنے کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ سپریم کورٹ درخواست کی سماعت 12 جون کو کرے گی۔
میناکشی نٹراجن کے وکیل، ابھیشیک منو سنگھوی نے جمعرات کو جسٹس پرشانت کمار مشرا کی سربراہی والی تعطیلاتی بنچ کے سامنے اس معاملے کا تذکرہ کرتے ہوئے فوری سماعت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے استدعا کی کہ درخواست کی سماعت آج یا کل کی جائے۔ سنگھوی نے کہا کہ آج نامزدگی واپس لینے کا آخری دن ہے۔ سنگھوی نے یہ بھی درخواست کی کہ راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج پر روک لگانے کا حکم جاری کیا جائے۔
ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا سیٹ کے لیے میناکشی نٹراجن کی نامزدگی کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا کہ انہوں نے ایک مجرمانہ معاملے کی معلومات چھپائی تھیں۔ سنگھوی نے کہا کہ زیر بحث فوجداری معاملے کا ابھی تک نوٹس نہیں لیا گیا ہے۔ میناکشی نٹراجن کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 223 کے تحت نوٹس سے قبل سمن جاری کیا گیا ہے۔ سنگھوی نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 33اے کے مطابق انکشاف صرف ان مجرمانہ معاملات کے لیے ضروری ہے جن میں پہلے ہی نوٹس لیا جا چکا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ یہ درخواست قابل سماعت کیسے ہے؟ عدالت انتخابی معاملات میں عبوری احکامات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ سنگھوی نے پھر کہا کہ اگر اہم غلطیاں ہوں تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔ سماعت کے دوران اپوزیشن امیدوار کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل مکل روہتگی اور الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرنے والے وکیل ڈی ایس نائیڈو نے عرضی کی برقراری پر سوال اٹھایا۔ بالآخر، عدالت نے کل 12 جون کو اس معاملے کی سماعت کا حکم دیا۔
میناکشی نٹراجن کے کاغذات نامزدگی کو ریٹرننگ آفیسر اروند شرما نے یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں تلنگانہ میں اپنے خلاف زیر التواءفوجداری کیس کا انکشاف نہیں کیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی