مدھیہ پردیش سبزیوں کی پیداوار میں ملک میں تیسرے نمبر پر پہنچا، چار سالوں میں 21.58 لاکھ میٹرک ٹن کا بے مثال اضافہ
بھوپال، 11 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش نے سبزیوں کی پیداوار میں ایک نئی کامیابی حاصل کی ہے۔ گزشتہ چار سال میں ریاست کی سبزیوں کی پیداوار میں تقریباً 21.58 لاکھ میٹرک ٹن کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مدھیہ پردیش اس وقت ملک میں سبزیوں کی پیداوار میں تیسرے مقا
سبزی کی علامتی تصویر


بھوپال، 11 جون (ہ س)۔

مدھیہ پردیش نے سبزیوں کی پیداوار میں ایک نئی کامیابی حاصل کی ہے۔ گزشتہ چار سال میں ریاست کی سبزیوں کی پیداوار میں تقریباً 21.58 لاکھ میٹرک ٹن کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مدھیہ پردیش اس وقت ملک میں سبزیوں کی پیداوار میں تیسرے مقام پر ہے۔

مدھیہ پردیش زراعت اور باغبانی (ہارٹیکلچر) کے شعبے میں ملک کی سرکردہ ریاستوں میں اپنی مضبوط شناخت بنا چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں سال 2026 کو ’’کسان کلیان ورش‘‘ (کسان فلاحی سال) کے طور پر منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، زراعت میں تنوع اور کھیتی کو زیادہ منافع بخش بنانا ہے۔

رابطہ عامہ افسر انیل وششٹھ نے جمعرات کے روز بتایا کہ باغبانی اور فوڈ پروسیسنگ کے محکمے کی جانب سے ’’سمردھ کسان-سمردھ مدھیہ پردیش‘‘ (خوشحال کسان۔خوشحال مدھیہ پردیش) کی تھیم پر سبزیوں کے رقبے میں توسیع کا ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے۔ ریاست کی سازگار آب و ہوا، زرخیز زمین، آبپاشی کے وسائل کی توسیع اور کسانوں کی طرف سے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی وجہ سے سبزیوں کی پیداوار میں مسلسل اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ سال 23-2022 میں ریاست میں سبزیوں کی پیداوار 236.41 لاکھ میٹرک ٹن تھی، جو سال 25-2024 میں بڑھ کر 257.99 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ ریاست کے زرعی اور باغبانی کے شعبے کی مضبوط ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔

رابطہ عامہ افسر کے مطابق، قومی سطح پر سبزیوں کی کل پیداوار تقریباً 2177 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جس میں مدھیہ پردیش کا حصہ تقریباً 259 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ ملک کی غذائی اور غذائیت کی سیکورٹی میں مدھیہ پردیش اہم تعاون دے رہا ہے۔ ریاست کے لاکھوں کسان سبزیوں کی پیداوار سے اپنی آمدنی بھی بڑھا رہے ہیں اور ملک کی بڑھتی ہوئی مانگ کو بھی پورا کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست میں کسانوں کی طرف سے پیاز، آلو، ٹماٹر، بینگن، پھول گوبھی، بند گوبھی، ہری مٹر، بھنڈی، پالک، لوکی، اروی، کریلا، ککڑی، مولی، ترئی (توری)، گاجر، شکرقند، شملہ مرچ اور پرول سمیت کئی اقسام کی سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔ ان میں پیاز کی پیداوار کا خاص مقام ہے۔ ریاست میں سب سے زیادہ رقبہ پیاز کی کاشت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سال 23-2022 میں پیاز کا رقبہ 2.17 لاکھ ہیکٹر تھا، جو سال 25-2024 میں بڑھ کر تقریباً 2.30 لاکھ ہیکٹر ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست میں چھوٹے ہولڈنگ والے (کم زمین والے) کسانوں کو سبزیوں کی پیداوار کے لیے مزید ترغیب دینا ضروری ہے، تاکہ کم زمین سے زیادہ آمدنی حاصل کی جا سکے۔ سبزیوں کی پیداوار اس نقطۂ نظر سے سب سے موثر متبادلات میں سے ایک ہے، اسی لیے کسان فلاحی سال میں سبزیوں کے رقبے کی توسیع کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔

رابطہ عامہ افسر وششٹھ نے بتایا کہ باغبانی اور فوڈ پروسیسنگ محکمے کے ایکشن پلان میں ریاست کے 54 ہزار ہیکٹر رقبے پر سبزیوں کی کاشت کو وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس میں 13 ہزار 300 ہیکٹر پر آلو، 9 ہزار 800 ہیکٹر پر ٹماٹر، 16 ہزار 500 ہیکٹر پر پیاز، 3 ہزار 500 ہیکٹر پر مٹر، 3 ہزار 500 ہیکٹر پر پھول گوبھی اور بند گوبھی، 01 ہزار 200 ہیکٹر پر زیادہ قیمت والی سبزیاں اور 6 ہزار 200 ہیکٹر پر کدو کے نسل کی سبزیوں کی کاشت کو بڑھایا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت کسانوں کو تکنیکی رہنمائی، معیاری پودے، جدید زرعی تکنیک اور مارکیٹنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ کسان فلاحی سال کا بنیادی مقصد کسانوں کو خود کفیل اور اقتصادی طور پر مضبوط بنانا ہے۔ سبزیوں کی پیداوار میں اضافے سے کسانوں کو سال بھر باقاعدہ آمدنی حاصل ہوتی ہے، جس سے ان کی معاشی حالت بہتر ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ریاست میں غذائی تحفظ کو بھی تقویت ملتی ہے۔ سبزیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے یہ شعبہ روزگار کی فراہمی کا بھی ایک اہم ذریعہ بن رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں پیداوار، نقل و حمل، اسٹوریج اور مارکیٹنگ سے مربوط ہزاروں لوگوں کو روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔

رابطہ عامہ افسر نے بتایا کہ باغبانی اور فوڈ پروسیسنگ کا محکمہ کسانوں کو باغبانی کی فصلوں کی طرف راغب کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ محکمہ کی اسکیموں کا مقصد کسانوں کو روایتی کھیتی کے ساتھ ساتھ زیادہ قیمت والی سبزیوں کی پیداوار کے لیے راغب کرنا ہے، تاکہ وہ کم زمین میں زیادہ منافع کما سکیں۔ جدید ٹیکنالوجی، محفوظ کاشتکاری، مائیکرو آبپاشی اور معیاری بیجوں کے استعمال سے پیداوار اور پیداواری صلاحیت دونوں میں اضافے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande