
بچوں کی تعلیم، صحت اور ضروریات پوری کرنا والد کی قانونی و اخلاقی ذمہ داری قرارناگپور، 11 جون (ہ س) بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کوئی بھی باپ صرف بے روزگاری کا حوالہ دے کر اپنے نابالغ بچوں کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے بچوں کے لیے مقرر کردہ ماہانہ نان و نفقہ کو چیلنج کرنے والی درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس ایم ایم نرلیکر نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال والد کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ بے روزگاری یا محدود آمدنی کو اس ذمہ داری سے بچنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق 15 جنوری 2026 کو بلڈھانہ فیملی کورٹ نے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کے لیے ماہانہ چار، چار ہزار روپے نان و نفقہ مقرر کیا تھا۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے والد نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس وقت بے روزگار ہے اور اس کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 2023 میں اپنی اہلیہ کو دو لاکھ پچھتر ہزار روپے ادا کرنے کے لیے اسے اپنی آٹو رکشا فروخت کرنا پڑی تھی، جس کے باعث وہ بچوں کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا۔
تاہم ہائی کورٹ نے ان دلائل کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ والد پہلے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ہر ماہ تین ہزار روپے ادا کرنے پر رضامند ہو چکا تھا، لیکن اس نے یہ رقم کبھی ادا نہیں کی۔ عدالت نے مزید کہا کہ دونوں بچوں کی عمریں اس وقت 10 اور 7 سال ہیں اور ان کی تعلیم، صحت اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا والد کی ذمہ داری ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ بے روزگاری یا کم آمدنی کو قانونی ذمہ داریوں سے بچنے کا بہانہ نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ یہ قانون کا ایک مسلمہ اصول ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بچوں کے حقوق اور ان کے نان و نفقہ سے متعلق قانونی تحفظات کو مزید مضبوط بنانے والا ایک اہم عدالتی فیصلہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے