
گر سومناتھ، 11 جون (ہ س) ۔ گجرات ہائی کورٹ نے گجرات کے گر سومناتھ ضلع میں واقع عالمی شہرت یافتہ سومناتھ مندر سے ساگر درشن تک تقریباً 100 سال پرانے راستے کو بند کرنے کے سلسلے میں ریاستی حکومت اور انتظامیہ سے سخت جواب طلب کیا ہے۔ مقامی باشندوں نے اس بندش کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس نکھل ایس کریل نے انتظامیہ کے رویہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی شکایات اور مطالبات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے پوچھا کہ کلکٹر مقامی باشندوں کی چار سے پانچ ماہ پرانی شکایات کا جواب کیوں نہیں دے رہے ہیں۔ ہائی کورٹ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اب بھی بادشاہت کے دور میں رہ رہے ہیں، کلکٹر کا کام کیا ہے، وہ کس کام میں اتنا مصروف تھا کہ ان کے پاس عام لوگوں کی بات سننے اور جواب دینے کا وقت نہیں تھا۔
حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اہلیہ بائی مجسمہ سے ساگر درشن تک کے راستے کا ایک ویڈیو اور اپ ڈیٹ کردہ نقشہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ جس کے بعد عدالت نے اگلی سماعت 22 جون کو مقرر کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے یہ سوال بھی کیا کہ مندر کے ٹرسٹ کو سڑک بند کرنے کا اختیار کس نے دیا؟ عدالت نے کہا کہ یہ ملٹری زون نہیں بلکہ مذہبی عقیدے کا مرکز ہے۔ انتظامیہ یا کوئی بھی ٹرسٹ من مانی فیصلہ نہیں کر سکتا کہ شہریوں کو کہاں اور کیسے چلنا چاہیے۔
ہائی کورٹ نے پوچھا کہ اگر کلکٹر نے فیصلہ کیا ہے تو اسے کس قانون نے سڑک بند کرنے کا اختیار دیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ یہ راستہ 1820 سے نقشے پر موجود تھا اور یہ کہ عوامی سڑک کی بندش بنیادی طور پر غیر قانونی معلوم ہوتی ہے۔
عدالت نے انتظامیہ سے یہ بھی کہا کہ وہ واضح کرے کہ مقامی باشندوں کی شکایات پر چار ماہ کے دوران کیا کارروائی کی گئی اور جواب دینے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ عدالت نے اس معاملے میں انتظامی احتساب اور شہری حقوق پر سنگین سوالات اٹھائے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی