
نئی دہلی، 11 جون (ہ س)۔ کڑکڑڈوما عدالت نے دہلی میں تشدد کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل کے معاملے میں فیصلہ ملتوی کر دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے فیصلہ جولائی میں سنانے کا حکم دیا۔
اس معاملہ میں طاہر حسین کے علاوہ حسین عرف ملاجی عرف سلمان، ناظم، قاسم، سمیر خان، انس، فیروز، جاوید، گلفام، شعیب عالم عرف بوبی اور منتظر عرف موسی کو نامزد کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے 3 جون 2020 کو اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ 24 اور 25 فروری 2020 کو طاہر حسین نے اپنے گھر اور چاند باغ پلیا کے قریب ایک مسجد سے ایک ہجوم کی قیادت کی اور اسے فرقہ وارانہ موڑ دیا۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ انکت شرما کے قتل کی سازش رچی گئی تھی۔ شرما کو خاص طور پر طاہر حسین کی قیادت میں ایک ہجوم نے نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ کھجوری خاص کے علاقے میں طاہر حسین کے گھر کے باہر پیش آیا۔ شرما کو قتل کرنے کے بعد ہجوم نے اس کی لاش کو نالے میں پھینک دیا۔
پولیس کے مطابق انکت شرما کے پوسٹ مارٹم کے دوران ڈاکٹروں کو تیز دھار ہتھیار سے 51 وار کے زخم ملے۔ طاہر وہی تھا جس نے چاند باغ علاقے میں ہجوم کو اکسایا تھا۔ چارج شیٹ میں طاہر حسین کو ماسٹر مائنڈ کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ انکت کے والد کے بیان کی بنیاد پر دہلی پولیس نے طاہر حسین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 302، 365، 201 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی۔ اس کے گھر کی چھت سے تشدد میں استعمال ہونے والے مواد کی بڑی مقدار برآمد ہوئی ہے۔ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی