
نئی دہلی، 11 جون (ہ س)۔ بھگوان بدھ کے دو سب سے ممتاز اور عزیز شاگردوں ارہنت ساری پتر اور ارہنت مودگلیاین کے مقدس بدھ آثار کومونگولیا کے تاریخی دورے کے بعد جمعرات کو مدھیہ پردیش کے رائسین ضلع میں واقع یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کے مقام سانچی لے جایا گیا ۔
مرکزی وزارت ثقافت کے مطابق، یہ مقدس آثار اصل میں سانچی کے استوپا میں محفوظ تھے، جہاں انہیں مکمل ریاستی اور مذہبی اعزاز کے ساتھ دوبارہ نصب کیا جائے گا۔ اس سے قبل بدھ کے روز، مقدس آثار کو بھارتی فضائیہ کے خصوصی طیارے میں منگولیا کے دارالحکومت اولان باتر سے واپس دہلی لایا گیا۔ دہلی پہنچنے پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ آج، ان آثار کی روانگی کے دوران، اداکارہ اور لوک سبھا کی رکن کنگنا رناوت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی جنرل سکریٹری ترون چ±غ ہوائی اڈے پر پہنچے اور اپنے گہرے احترام کا اظہار کیا۔
اس سفر کے دوران ،بین الاقوامی بدھسٹ کنفیڈریشن (آئی بی سی) اور مرکزی حکومت کے نمائندوں کے ہمراہ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ بھی مقدس آثار کے ساتھ موجود تھے۔ قائدین نے کہا کہ اس دورے سے ہندوستان اور منگولیا کے درمیان صدیوں پرانے ثقافتی اور روحانی رشتوں کو مزید تقویت ملی ہے۔
ان مقدس آثار کی نمائش کا اہتمام منگولیا میں گنڈن تیگچین لنگ مٹھ کی خصوصی درخواست پر کیا گیا تھا۔ وزارت ثقافت کے تحت نیشنل میوزیم آف انڈیا نے حکومت مدھیہ پردیش، مہابودھی سوسائٹی آف سری لنکا اور آئی بی سی کے اشتراک سے 31 مئی سے 9 جون تک اس کامیاب نمائش کا اہتمام کیا۔
منگول بدھ پورنیما کے موقع پر عوام کے لیے کھولی گئی، نمائش نے لوگوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ منگولیا میں، تقریباً 34 لاکھ کی کل آبادی کے ساتھ، تقریباً 10 لاکھ عقیدت مندوں نے 10 دنوں کے دوران مقدس آثار کو دیکھنے کے لیے مٹھ دورہ کیا۔
قابل ذکر ہے کہ اس تاریخی نمائش کا اعلان وزیر اعظم نریندر مودی نے اکتوبر 2025 میں منگولیا کے صدر کھرل سکھ اکھنا کے دورہ ہندوستان کے دوران کیا تھا۔ اس کے بعد 30 مئی کو آسام کے گورنر لکشمن پرساد اچاریہ نے یہ آثار رسمی طور پر منگولیا کے وزیر تعلیم اینکھ- امگلان اور گنڈانٹیگ چینلنگ مٹھ کے کمبا نومون خان گیشے لہارمپا ڈی جاوزانڈورج کو سونپے تھے۔
ہندوستان سے باہر یہ ایک بہت ہی نایاب موقع ہے جب ان مقدس آثار کوغیر ملکی باہر بھیجا گیا ہو۔ اب تک یہ مقدس آثار صرف تھائی لینڈ اور منگولیا کو بھیجے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد