ہندوستانی ملاحوں کوبے یار و مددگار چھوڑدینے پرسختی : 366 جہازوں کے خلاف کارروائی، 88 بلیک لسٹ اور 278 پر پابندی
کولکاتا، 9 جون (ہ س)۔ ملک کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے ہندوستانی ملاحوں کو بے یار و مددگار چھوڑدینے کے معاملات پرسخت موقف اپناتے ہوئے اب تک 88 جہازوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے جب کہ 278 جہازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ مجموعی طور پر 366 بجری جہازوں
coast-vessel-directorate-decis


کولکاتا، 9 جون (ہ س)۔ ملک کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے ہندوستانی ملاحوں کو بے یار و مددگار چھوڑدینے کے معاملات پرسخت موقف اپناتے ہوئے اب تک 88 جہازوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے جب کہ 278 جہازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ مجموعی طور پر 366 بجری جہازوں کوملاحوں کو لا وارث چھوڑ دینے سے متعلق معاملوں میں نشانزد کیا گیا ہے۔

ابینڈن یعنی ملاحوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینے کی حالات تب پیداہوتے ہیں، جب کسی ملاح کو بغیر تنخواہ، خوراک یا وطن واپسی کے بندوبست کے غیر ملکی بندرگاہ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں ہی 1,125 ہندوستانی ملاح ایسے حالات کا شکار ہوئے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو نمایاں کرتا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ کے مطابق، جن بحری جہازوں میں ملاحوں کو بے یار و مدد گار چھوڑنے کا پہلا واقعہ پایا جاتا ہے، ان کو ممنوعہ فہرست میں ڈال دیا جاتا ہے، جب کہ دوبارہ ایسا واقعہ رونما ہونے پر انہیں بلیک لسٹ کر دیا جاتا ہے۔ بلیک لسٹڈ بحری جہازوں پر ہندوستانی ملاحوں کی تقرری مکمل طور پر ممنوع ہوجاتی ہے۔

حالیہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملاحوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا بین الاقوامی بحری محنت کے معیارات اور ہندوستان کے سمندری جہاز رانی کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، اس میں میری ٹائم لیبر کنونشن 2006 کی شقوں کی واضح خلاف ورزی بھی شامل ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملاحوں کی وطن واپسی، اجرت کی ادائیگی اورقانونی تحفظ کو یقینی بنانے میں سنگین مشکلات کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ بہت سے معاملات میں، جہاز کی تفصیل اور اصل جہاز کے درمیان تضاد پایا گیا، جس کی وجہ سے ملاحوں کو مالی اور نفسیاتی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے یہ بھی کہا کہ بھرتی اور پلیسمنٹ سروس لائسنس رکھنے والی ایجنسیوں کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بہت سی یجنسیوں کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کوئی لائسنس یافتہ ایجنسی ممنوعہ یا بلیک لسٹڈ جہازوں پر ہندوستانی بحری جہازوں کو ملازمت نہیں دے سکتی۔ ایسے بحری جہازوں کو کسی بھی حالت میں ہندوستانی بحری جہازوں کو ملازمت دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل نے بدھ کی صبح اپنے بیان میں کہا کہ یہ قدم ہندوستانی بحری جہازوں کے حقوق کے تحفظ، ان کی اجرت کو یقینی بنانے اور کام کے محفوظ حالات کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande