وزیراعظم نریندر مودی کا آج دہلی کے بھارت منڈپم میں استقبال کیا جائے گا
وزیراعظم نریندر مودی کا آج دہلی کے بھارت منڈپم میں استقبال کیا جائے گا نئی دہلی، 10 جون (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی اہم میٹنگ آج یہاں بھارت منڈپم میں دوپہر 3 بجے شروع ہوگی۔ میٹنگ میں این ڈی
وزیراعظم نریندر مودی۔ فائل تصویر


وزیراعظم نریندر مودی کا آج دہلی کے بھارت منڈپم میں استقبال کیا جائے گا

نئی دہلی، 10 جون (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی اہم میٹنگ آج یہاں بھارت منڈپم میں دوپہر 3 بجے شروع ہوگی۔ میٹنگ میں این ڈی اے حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، نائب وزرائے اعلیٰ اور اتحادی پارٹیوں کے قائدین موجود رہیں گے۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ اور ٹی ڈی پی کے سربراہ این چندرابابو نائیڈو میٹنگ میں نریندر مودی کے سب سے طویل عرصے تک منتخب وزیراعظم بنے رہنے کے ریکارڈ کے سلسلے میں خیرمقدمی قرارداد پیش کریں گے۔ دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین اس قرارداد کی تائید کریں گے۔ میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی کا پرجوش خیرمقدم کیا جائے گا۔

اس قرارداد میں وزیراعظم کی گزشتہ 12 سال کی کامیابیوں کا ذکر کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر حکومت کی کامیابیوں اور آئندہ انتخابات پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس یعنی این ڈی اے حکومت نے جون 2026 میں اپنی 12 سالہ تاریخی مدت مکمل کر لی ہے۔

26 مئی 2014 کو پہلی بار ملک کے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لینے والے گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ اور وارانسی سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ منتخب نریندر مودی نے 9 جون 2024 کو مسلسل تیسری بار اس عہدے کا حلف لیا۔ 9 جون 2026 کو وزیراعظم کے طور پر ان کے 4,398 دن (12 سال 15 دن) مکمل ہو گئے۔ انہوں نے آزاد ہندوستان میں سب سے طویل عرصے تک الیکشن جیت کر وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہنے کا ریکارڈ قائم کر دیا۔

خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک سنگِ میل مانے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک بہت بڑی لکیر کھینچ دی۔ نہرو ویسے تو 15 اگست 1947 سے لے کر اپنی موت (27 مئی 1964) تک کل 6,130 دنوں کے لیے وزیراعظم رہے، لیکن ملک کے پہلے عام انتخابات ہونے سے پہلے کے ابتدائی 5 سال وہ عبوری حکومت کے سربراہ تھے۔ جب 1952 میں الیکشن جیت کر وہ پہلی بار منتخب وزیراعظم بنے، تو وہاں سے ان کی مدتِ کار 4,397 دن (12 سال 14 دن) کی رہی۔

بی جے پی نے اپنے ایکس ہینڈل پر 9 جون کو خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ’’تبدیلی کے 12 سال: وعدوں سے ترقی تک!‘‘ پارٹی نے کہا، ’’اندھیرے سے روشنی، کچے مکان سے پکی چھت اور میلوں کے سفر سے گھر میں نل تک - گزشتہ 12 برسوں میں ہندوستان نے ایک نئی کہانی لکھی ہے۔ یہ محض اسکیموں کے اعداد و شمار نہیں، کروڑوں ہندوستانیوں کی بدلتی ہوئی مسکراہٹ ہے‘‘۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا کہ یہ خدمت، عزم اور خوشحالی کا ایک بے مثال سفر ہے۔ پارٹی نے ایک دوسری پوسٹ میں لکھا، ’’بنیادی سہولیات - گھر، پانی، صحت، رہائش اور صاف توانائی سے شروع ہوئی ترقی کی یہ کہانی آج کروڑوں ہندوستانیوں کی خوشحالی کی بنیاد بن چکی ہے۔ یہ سفر صرف سرکاری اسکیموں کا نہیں، بلکہ عام شہریوں کی زندگی میں آئی مثبت تبدیلی، نئے مواقع اور ایک خود کفیل ہندوستان کے عروج کی علامت ہے۔ مودی حکومت نے دنیا کو بتایا کہ ’ترقی اور قدرت‘ ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ رامیشورم-پارا دیپ گرین فیلڈ کوسٹل ہائی وے پروجیکٹ اسی سوچ کی ایک مضبوط مثال ہے۔ یہ صرف ایک سڑک نہیں، بلکہ ترقی، سیکورٹی اور قدرت کے توازن کا نیا ہندوستان ماڈل ہے‘‘۔

وزیراعظم نریندر مودی کی اس کامیابی پر کئی ممالک کے صدور اور سربراہانِ حکومت نے انہیں مبارکباد کے پیغامات بھیجے ہیں۔ ان میں اہم ہیں - سری لنکا کے صدر انورا کمارا دیسانائیکے، پاپوا نیو گنی کے وزیراعظم جیمز ماراپے، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی وزیراعظم کملا پرساد بیسر وغیرہ۔ اس کے ساتھ ہی سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے اپنے مضامین میں وزیراعظم مودی کی مدتِ کار کے جمہوری نقطہ نظر کو اجاگر کرتے ہوئے تجزیہ کیا ہے۔

دیوے گوڑا نے کہا کہ مودی ملک کے سب سے طویل عرصے تک مسلسل خدمات انجام دینے والے جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم بن چکے ہیں اور اس معاملے میں انہوں نے جواہر لعل نہرو کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دیوے گوڑا نے ہندوستان کی جمہوری توسیع پر بات کرتے ہوئے لکھا کہ 1952 کے پہلے عام انتخابات میں جہاں صرف 53 سیاسی جماعتیں اور تقریباً 17 کروڑ ووٹرز تھے، وہیں 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 2,593 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا اور ملک کی آبادی 146 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔

سابق وزیراعظم دیوے گوڑا نے کہا کہ موجودہ مرکزی کابینہ سماجی نمائندگی کے لحاظ سے زیادہ وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ مودی کابینہ میں 27 دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، 10 درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور 5 درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے وزراء شامل ہیں۔ انہوں نے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ (خواتین ریزرویشن بل) کو خواتین کی سیاسی شراکت بڑھانے کی سمت میں ایک تاریخی اقدام قرار دیا۔ ان کے مطابق، یہ قانون پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی کو مضبوط کرنے کا راستہ ہموار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں عوامی زندگی پر تنقیدیں زیادہ ذاتی اور تیکھی ہو گئی ہیں، لیکن وزیراعظم مودی مسلسل سرگرم رہتے ہوئے ملک کو سمت دینے کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے قومی سلامتی کے مسائل پر وزیراعظم کی مضبوط قیادت اور ’من کی بات‘ جیسے پروگراموں کے ذریعے عوام سے براہِ راست رابطے کو بھی اہم قرار دیا۔

نائیڈو نے اپنے مضمون میں وزیراعظم نریندر مودی کے ’نیشن فرسٹ‘ اور ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کے منتر کو ہندوستان کی ترقی کی بنیاد بتایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے ہندوستان کے ثقافتی ورثے اور تہذیبی فخر کو جدید طرزِ حکومت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ کر ترقی کا نیا ماڈل پیش کیا ہے۔

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ کے مطابق، گزشتہ 12 برسوں میں ہندوستان نے نمایاں معاشی ترقی کی ہے۔ ملک دنیا کی 11 ویں سب سے بڑی معیشت سے آگے بڑھ کر چوتھی سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی)، جن دھن یوجنا، آدھار اور یو پی آئی کو مالی شمولیت کی سمت میں تاریخی پہل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) نظام کے ذریعے 51 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم براہِ راست مستفیدین کے بینک کھاتوں میں پہنچائی گئی، جس سے مڈل مین (دلالوں) کا کردار ختم ہوا اور سرکاری اسکیموں کی شفافیت میں اضافہ ہوا۔

نائیڈو نے کہا کہ مودی حکومت کے دوران شاہراہوں، ریلوے، بندرگاہوں، ایئرپورٹوں اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی۔ انہوں نے ’مسابقتی اور کوآپریٹو وفاقیت‘ کے تصور کو مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل کی بنیاد بتایا۔ ان کے مطابق، اس پالیسی کا فائدہ آندھرا پردیش کو بھی ملا ہے۔ امراوتی پروجیکٹ، صنعتی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور نئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں ریاست کو مرکزی حکومت کے تعاون سے اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔ نائیڈو نے کہا کہ تاریخ اس دور کو صرف معاشی ترقی یا سیاسی استحکام کے لیے ہی نہیں، بلکہ ہندوستان کے خود اعتمادی کی بحالی اور ’وکست بھارت 2047‘ کے عزم کے لیے بھی یاد رکھے گی۔

دونوں رہنماوں کا یہ نقطہ نظر اس بات پر زور دیتا ہے کہ وزیراعظم مودی کی 12 سالوں کی مدتِ کار صرف سیاسی استحکام کی علامت نہیں ہے، بلکہ خود کفیل ہندوستان، تکنیکی ترقی، سماجی شمولیت اور عالمی سطح پر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے وقار کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ اس دور نے ملک کے خود اعتمادی، جدیدیت اور عالمی قیادت کو نئی سمت عطا کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande