
بھوپال، 10 جون (ہ س)۔
مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کا پرچہ نامزدگی منسوخ ہونے کے بعد ریاست میں سیاسی معرکہ آرائی تیز ہوگئی ہے۔ کانگریس نے اس کارروائی کو انتخابی عمل اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے بھوپال سمیت ریاست کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ راجدھانی بھوپال میں کانگریس رہنماوں نے اجتماعی اپواس کر کے احتجاج درج کرایا، جبکہ پارٹی نے اس معاملے کو قانونی اور سیاسی سطح پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بدھ کے روز بھوپال کے روشن پورہ چوراہے پر منعقدہ احتجاجی پروگرام میں سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ، ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری، حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار، ریاستی انچارج ہریش چودھری، سابق مرکزی وزیر ارون یادو، رکنِ اسمبلی عارف مسعود، ہیمنت کٹارے سمیت بڑی تعداد میں کانگریس قائدین اور کارکنان شریک ہوئے۔ مظاہرے کے دوران رہنماوں اور کارکنوں نے ہاتھوں میں آئین کی کاپیاں لے کر اور کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ میناکشی نٹراجن کا پرچہ نامزدگی ایسے مضحکہ خیز بنیاد پر مسترد کیا گیا ہے، جو انتخابی قانون کی روح کے مطابق نہیں ہے۔
اس احتجاجی پروگرام سے پہلے ریاستی کانگریس کے دفتر میں دگ وجے سنگھ، جیتو پٹواری اور امنگ سنگھار سمیت سینئر رہنماوں کی میٹنگ ہوئی۔ تقریباً 1 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں قانونی اور تزویراتی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے بعد کانگریس نے مقامی الیکشن حکام سے ملاقات کا پروگرام ملتوی کر دیا۔ پارٹی رہنماوں کا کہنا ہے کہ اب پورا معاملہ مرکزی قیادت کی سطح پر الیکشن کمیشن کے سامنے رکھا جائے گا اور دہلی سے آگے کی حکمتِ عملی طے ہوگی۔
روشن پورہ چوراہے پر منعقدہ اجتماعی اپواس کے دوران کانگریس رہنماوں نے اسے جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی تحریک قرار دیا۔ کانگریس کے رکنِ اسمبلی دنیش گوجر نے کہا کہ پارٹی قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی، وہ اس کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ان کی تقریر کے دوران وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر پتھر مارنے کو لیکر کئے گئے تبصرے سیاسی گلیاروں میں بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔
رکنِ اسمبلی ہیمنت کٹارے نے کہا کہ پارٹی جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی فورم پر اپنی بات رکھے گی۔ کانگریس کے رکنِ اسمبلی اور قبائلی کانگریس کے قومی صدر وکرانت بھوریا نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔ خاتون کانگریس کی ریاستی صدر رینا بورا سی نے الزام لگایا کہ مختلف ریاستوں میں انتخابی معاملات میں الگ الگ پیمانے اپنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کے معاملے میں فیصلہ لینے کا عمل انتہائی تیز رہا، جبکہ دیگر معاملات میں فریقین کو زیادہ وقت دیا گیا۔
رکنِ اسمبلی عارف مسعود نے کہا کہ صرف نوٹس کی بنیاد پر پرچہ نامزدگی مسترد کیا جانا ایک سنگین قانونی بحث کا موضوع ہے۔ کانگریس کے رکنِ اسمبلی جے وردھن سنگھ نے دعویٰ کیا کہ میناکشی نٹراجن کے خلاف کوئی مجرمانہ مقدمہ درج نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک نجی شکایت کی بنیاد پر جاری کردہ نوٹس کو پرچہ نامزدگی خارج کرنے کا جواز بنا دیا گیا۔
بھوپال کے علاوہ کھنڈوا سمیت دیگر اضلاع میں بھی کانگریس کارکنوں نے دھرنا مظاہرہ اور نعرے بازی کی۔ کھنڈوا میں کارکنوں نے چیف الیکشن کمشنر کا پتلا پھونک کر اپنا غصہ ظاہر کیا۔ مقامی کانگریس رہنماوں نے الزام لگایا کہ اس فیصلے سے جمہوری اقدار کو نقصان پہنچا ہے۔
گنا کے ہنومان چوراہے پر ریاستی کانگریس کمیٹی کی اپیل پر کارکنوں اور عہدیداروں نے الیکشن کمیشن اور حکمراں جماعت کے خلاف خاموش احتجاج (مون پردرشن) کیا۔ پارٹی نے اس پوری کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا۔ شہر کانگریس صدر رجنیش شرما (پنکو) نے تیکھا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی جمہوری عمل کے خلاف ہے۔ پارٹی نے اسے اپوزیشن کے امیدواروں کو روکنے کی ایک جابرانہ کوشش قرار دیا ہے۔
پنا میں کانگریس رہنماوں اور کارکنوں نے بدھ کے روز ضلع ہیڈکوارٹر پر واقع کلکٹر دفتر کے مرکزی گیٹ کے باہر ایک روزہ دھرنا اور اپواس رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران انہوں نے بی جے پی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ انہوں نے اس کارروائی کو براہِ راست ’جمہوریت کا قتل‘ قرار دیا۔ مظاہرے میں شامل سابق رکنِ اسمبلی شریکانت دوبے نے بی جے پی حکومت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی پوری طرح سے آمریت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اقتدار کے بھاری دباو میں ملک کے غیر جانبدار جمہوری اداروں کا سرِ عام غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔
دیواس میں کانگریس قائدین اور کارکنوں نے پشکر منڈوک تالاب کے قریب دھرنا دے کر اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔ اجین میں کانگریس رہنماوں اور کارکنوں نے خاموش احتجاج کیا۔ شہر کے ٹاور چوک پر واقع ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کے مجسمے کے پاس دوپہر 1 بجے سے احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ اس مظاہرے میں حزب اختلاف رہنما روی رائے، اجیت سنگھ سمیت شہر کانگریس کے عہدیداران، سیوا دل، خاتون کانگریس، بلاک صدور، بلاک انچارج، یوتھ کانگریس لیڈران اور بڑی تعداد میں کارکنان شامل ہوئے۔
ریاستی کانگریس قیادت نے واضح کیا ہے کہ پارٹی اس مسئلے کو صرف سیاسی نہیں، بلکہ آئینی اور قانونی لڑائی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ سینئر رہنماوں کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے تفصیلی موقف رکھا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر عدالت میں بھی چیلنج کیا جائے گا۔ حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے کہا کہ پارٹی کو امید ہے کہ الیکشن کمیشن تمام حقائق کا جائزہ لے کر غیر جانبدارانہ فیصلہ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس جمہوری اور آئینی دائرے میں رہ کر اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
میناکشی نٹراجن کا پرچہ نامزدگی منسوخ ہونے کے بعد مدھیہ پردیش کی تینوں راجیہ سبھا سیٹوں پر بی جے پی امیدواروں کے بلامقابلہ منتخب ہونے کا راستہ تقریباً صاف ہو گیا ہے۔ اس کے بعد سے ہی کانگریس مسلسل اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہے اور معاملے کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز بنی ہوئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن