برکس زرعی کانفرنس: مدھیہ پردیش میں غیر ملکی نمائندوں نے تاریخی ورثہ راجواڑہ کا دورہ کیا
اندور، 10 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں 9 جون سے 13 جون تک منعقد برکس ممالک کی اہم زرعی کانفرنس میں شرکت کر رہے غیر ملکی نمائندوں نے بدھ کے روز تاریخی ورثہ راجواڑہ کا دورہ کیا اور کئی اہم معلومات حاصل کیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ہولکر راج
برکس زرعی کانفرنس میں آئے غیر ملکی مہمانوں کو ہولکر دور کی نامیاتی کاشتکاری کے بارے میں معلومات دیتے مورخ


اندور، 10 جون (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں 9 جون سے 13 جون تک منعقد برکس ممالک کی اہم زرعی کانفرنس میں شرکت کر رہے غیر ملکی نمائندوں نے بدھ کے روز تاریخی ورثہ راجواڑہ کا دورہ کیا اور کئی اہم معلومات حاصل کیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ہولکر راج کے طریقۂ کاشتکاری اور نظامِ حکومت کے بارے میں بھی جانا۔

ایتھوپیا، برازیل، ساوتھ افریقہ، انڈونیشیا وغیرہ ممالک سے آئے غیر ملکی مہمان بدھ کو شہر کا فخر کہی جانے والی قدیم عمارت راجواڑہ پہنچے۔ یہاں ریاستی حکومت کی جانب سے غیر ملکی مہمانوں کا مالوی روایات کے مطابق پھولوں کی بارش کر کے اور انگ وستر (روایتی شال) پہنا کر استقبال کیا گیا۔ غیر ملکی مہمانوں نے راجواڑہ کے گنیش ہال اور دربار ہال سمیت مختلف کمروں کا معائنہ کیا اور اہم معلومات حاصل کیں۔

مورخ ظفر انصاری، شروانی جوشی اور سنگھ مترا پیپلو دا نے غیر ملکی مہمانوں کو بتایا کہ ہولکر راج میں زراعت کا بہترین انتظام تھا۔ یہاں کمپوسٹ طریقے سے نامیاتی (آرگینک) کھیتی کی جاتی تھی، جس میں زرعی فضلا، نامیاتی کچرا، گوبر اور راکھ وغیرہ سے نامیاتی کھاد تیار کی جاتی تھی۔ اس کا ذکر برطانوی حکومت کے دوران کیمبرج کے تعلیم یافتہ سر البرٹ ہاورڈ نے اپنی کتابوں میں کیا ہے۔ انہوں نے اندور میں رہ کر ہولکر دور کے زرعی نظام کو قریب سے دیکھا اور سمجھا تھا۔ مورخین نے غیر ملکی مہمانوں کو مختلف دستاویزات اور اشیاء کے ذریعے بتایا کہ ہولکر راج میں مردم شماری کیسے ہوتی تھی، اس وقت راجہ مہاراجہ اور درباریوں کا لباس کیسا ہوتا تھا اور جب راجہ دربار میں تشریف لاتے تھے، تو ملازمین کس طرح ان کی آمد کا اعلان کرتے تھے۔

غیر ملکی مہمانوں کو مہرانِ سلطنت اور ماہر منتظم دیوی اہلیا بائی ہولکر کے دور میں ہونے والے فلاحی اور سماجی کاموں کے بارے میں تفصیل سے معلومات دی گئیں۔ اس کے علاوہ مہیشور میں تیار ہونے والی مشہور مہیشوری ساڑیوں کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

مورخین نے بتایا کہ تقریباً پونے تین سو سال قبل ملہار راو ہولکر نے اندور کے اس تاریخی اور شاندار راجواڑہ کو تعمیر کروایا تھا۔ یہ اس دور کی پہلی اور سب سے بڑی عمارت تھی۔ اس سات منزلہ عمارت کو محل کچہری اور محل واڑہ بھی کہا جاتا تھا، جہاں دربار سجتا تھا۔ غیر ملکی مہمانوں کو بتایا گیا کہ اندور کا نام یہاں واقع قدیم مندر اندریشور کے نام پر پڑا۔ اس شہر کو پہلے اندُور اور بعد میں اندور کہا جانے لگا۔ غیر ملکی مہمانوں نے راجواڑہ میں مالوی پکوانوں کا لطف اٹھایا اور راجواڑہ کی گیلریوں اور مرکزی دروازے پر گروپ فوٹو کھنچوائے۔ اس موقع پر میونسپل کارپوریشن کمشنر کِشِتِج سنگھل، اسمارٹ سٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارتھ جین سمیت متعلقہ حکام موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande