ٹیرر فنڈنگ معاملے میں کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کو ضمانت ملی
نئی دہلی، 10 جون (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ (دہشت گردی کی مالی معاونت) کے معاملے میں کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کو ضمانت دے دی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی والی تعطیلاتی بنچ نے ضمانت کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ خرم پرو
DL-LC-Terror-Funding-Khurram-Parvez


نئی دہلی، 10 جون (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ (دہشت گردی کی مالی معاونت) کے معاملے میں کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کو ضمانت دے دی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی والی تعطیلاتی بنچ نے ضمانت کا حکم جاری کیا۔

عدالت نے کہا کہ خرم پرویز چار سال سے زائد عرصے سے زیر حراست ہیں اور ٹرائل کے جلد مکمل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ خرم پرویز 2004 میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں اپنا پیر گنوا چکے ہیں ۔وہ جسمانی طور پر کمزور ہیں اور اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

عدالت نے خرم پرویز کو اپنا پاسپورٹ سرینڈر کرنے اور عدالتی اجازت کے بغیر دہلی سے باہر سفر نہ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے خرم پرویز کو اس کیس کے حوالے سے عوامی بیانات نہ دینے کا بھی حکم دیا۔

خرم پرویز جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے پروگرام کوآرڈینیٹر اور ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوالنٹری ڈس اپیریئنسز کے چیئرپرسن ہیں۔ انہیں 22 نومبر 2021 کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق، خرم پرویز نے ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا انجام دینےکے لیے انسانی حقوق کے کارکن کی آڑ میں لشکر طیبہ کے ایک رکن کے ساتھ اوور گراؤنڈ کارکنوں کا نیٹ ورک چلاتا تھا۔

این آئی اے نے نومبر 2021 میں اس معاملے میں ایک کیس درج کیا تھا۔این آئی اے کے مطابق، پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے خرم پرویز، منیر احمد کٹاریہ، ارشد احمد ٹونچ، اور ظفر عباس کے ساتھ مل کر لشکر طیبہ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے اور ہندوستان میں دہشت گردانہ حملوں کے لیے نیٹ ورک چلانے کی سازش کی۔ ملزمان نے سیکورٹی فورس کی اہم تنصیبات، تعیناتیوں اور نقل و حرکت کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں اور اسے لشکر طیبہ تک پہنچایا۔ اس کے علاوہ ، ہماچل پردیش کے ایک سرکاری اہلکار نے اپنے سرکاری عہدے کا استعمال کرتے ہوئے انہیں دستاویزات فراہم کر ائے ۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande