
نئی دہلی، 10 جون (ہ س) ۔
کانگریس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے مدھیہ پردیش میں 18 جون کو ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی کی منسوخی پر احتجاج کے لیے منگل کو الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔
وفد میں کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال، پارٹی کے قانونی، حق معلومات (آر ٹی آئی) اور انسانی وسائل کے محکمے کے سربراہ ابھیشیک منو سنگھوی، راجیہ سبھا کے رکن وویک تنکھا، لوک سبھا کے رکن رندیپ سنگھ سرجے والا، جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش، جنرل سکریٹری دیپ داس منشی، چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلی بھوپیش بگھیل اور میناکشی نٹراجن شامل تھیں۔
الیکشن کمیشن کے ساتھ میٹنگ کے بعد ابھیشیک منو سنگھوی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ مکمل طور پرغلط اور قانونی طور پر درست نہیںہے۔ نٹراجن کی نامزدگی کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا کہ انہوںنے اپنے فارم میں کسی زیر التواء فوجداری کیس کا انکشاف نہیں کیا، جبکہ حقیقت میں ان کے خلاف کوئی زیر التواء فوجداری کیس نہیں ہے۔ صرف نوٹس جاری ہوا ہے جس میں عدالت نے یہ طے کرنا تھا کہ نوٹس لیا جائے یا نہیں۔
الیکشن ایکٹ کے سیکشن 33 اے کے تحت صرف ان معاملات کو ظاہر کیا جانا چاہیے جہاں جرم کی سزا دو سال سے زیادہ قیدکی سزا ہو اور جہاں الزامات عائد کیے گئے ہوں۔ نٹراجن کے معاملے میں نہ تو کوئی نوٹس لیا گیا ہے اور نہ ہی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسی غلطی پر کسی امیدوار کو انتخابی دوڑ سے نااہل قرار دینا جمہوریت اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کے منافی ہے۔ یہ انتخابات میں مساوی مواقع کے اصول کو مجروح کرتا ہے اورغیر برابری کا میدان تیار کرتا ہے۔
سنگھوی نے الیکشن کمیشن سے اپیل کی کہ وہ ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کو کالعدم کرنے کے لیے اپنے دائرہ اختیار کا استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کو اپنے ماتحت افسر کے غلط فیصلے کو کالعدم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ہریانہ میں جب دو امیدواروں کی نامزدگیوں کو غلط طریقے سے مسترد کر دیا گیا تو کمیشن نے مداخلت کی اور انہیں درست کیا۔ اسی طرح، گجرات میں، کمیشن نے بیلٹ سے متعلق غلطی کو درست کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے وفد نے کمیشن کو بتایا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے جو برسوں سے عدالت میں زیر التوا رہے اور بعد میں انتخابی عرضی کے ذریعے حل کیا جائے۔ کمیشن کو فوری مداخلت کرنے اور منصفانہ فیصلہ دینے کا اختیار ہے۔ میناکشی نٹراجن کی نامزدگی کو بحال کیا جائے اور انہیں انتخابی عمل میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ