گجرات : بھروچ کی جامع مسجد کے تہہ خانے میں ہندو اور جین دیوتاؤں کی مورتیاں ہونے کا دعویٰ
بھروچ، 10 جون (ہ س)۔ گجرات کے بھروچ ضلع میں واقع جامع مسجد پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ایک ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسجد کے تہہ خانے میں ہندو اور جین دیوتاؤں کی مورتیاں پائی گئی ہیں۔ بھروچ کے نوچاؤکی اووارہ میں واقع شنکر
گجرات : بھروچ کی جامع مسجد کے تہہ خانے میں ہندو اور جین دیوتاؤں کی مورتیاں ہونے کا دعویٰ


بھروچ، 10 جون (ہ س)۔ گجرات کے بھروچ ضلع میں واقع جامع مسجد پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ایک ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسجد کے تہہ خانے میں ہندو اور جین دیوتاؤں کی مورتیاں پائی گئی ہیں۔ بھروچ کے نوچاؤکی اووارہ میں واقع شنکراچاریہ مٹھ کے مہنت مکتانند سوامی نے ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جامع مسجد دراصل ایک جین 'سمری وہار' ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک طویل احتجاج کے بعد، 700 سال پرانے تہہ خانے کو کھولا گیا، جس میں وکرم سموت 1213 سے تعلق رکھنے والے بھگوان مالی ناتھ کے بت موجود تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس جگہ کو مندر کے طور پر بحال کیا جائے۔

حال ہی میں بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ نے احاطے کے اندر تعمیر شدہ غیر مجاز ڈھانچوں کو منہدم کر دیا۔ اسکے علاوہ تہہ خانے کی طرف جانے والے ایک مرکزی دروازے کو فی الوقت سیکورٹی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مستقل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔

مسجد کے بارے میں ہندو اور جین فریق کا موقف ہے کہ اصل جین سمری وہار مندر کو 13ویں صدی میں علاؤالدین خلجی کے حملے کے دوران مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مسجد کے ستونوں پر جین روایات کی عکاسی کرنے والی قدیم نقش و نگار اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

اس معاملہ پر مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس جگہ پر صدیوں سے نماز باقاعدگی سے ادا کی جا رہی ہے۔ جامع مسجد کے ٹرسٹی عبداللہ کامٹھی نے بتایا کہ یہ تاریخی مسجد 1907 سے حکومت ہند کے گزٹ میں درج ہے اور اس کا انتظام وقف بورڈ کے تحت رجسٹرڈ ٹرسٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بعض افراد جان بوجھ کر ایک نیا تنازعہ کھڑا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کے حوالے سے قانونی مشاورت کی گئی ہے، قانونی طریقہ پر اس تنازعہ کا سامنا کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande