
نئی دہلی،یکم جون(ہ س)۔ یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) کے ذریعے لین دین مئی میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ موسم گرما میں ٹریول اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے اثرات کی وجہ سے لین دین کی کل قیمت 29.90لاکھ کروڑروپے کے ریکارڈ سطح پر پہنچ گیاجبکہ تعداد 23.2 ارب روپے تھی۔
نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کی طرف سے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سمر ٹریول اور آئی پی ایل کے جوش کی وجہ سے مئی میں مقبول یو پی آئی لین دین کو ریکارڈ اونچائی پر پہنچا دیا۔ این پی سی آئی کے مطابق اس کی قیمت 29.9 کھرب روپے اور حجم کے لحاظ سے 23.2 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ گزشتہ سال اسی مہینے میں 14 لاکھ کروڑ روپے، سال بہ سال کی بنیاد پر 19 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اپریل میں لین دین کی قیمت 29.03 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تعداد کے لحاظ سے مئی نے 23.22 ارب لین دین کے ساتھ ایک نیا ریکارڈ قائم کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 18.67 ارب لین دین سے 24 فیصد زیادہ ہے۔ اپریل 2026 میں لین دین کی تعداد 22.35ارب تھی۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی پیمنٹ سسٹمز رپورٹ کے مطابق یو پی آئی کے ذریعے اوسط لین دین کا حجم 2021 میں 1848 روپے سے کم ہو کر 2025 میں 1313 روپے ہو گیا ہے، جو تشویش کی بات نہیں بلکہ پختگی کے نظام کا اشارہ ہے۔ یو پی آئی اس وقت متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، سنگاپور، بھوٹان، نیپال اور ماریشس سمیت سات ممالک میں کام کر رہا ہے۔ این پی سی آئی ریزرو بینک آف انڈیا اور انڈین بینک ایسوسی ایشن (آئی بی اے) کی ایک پہل ہے جو ہندوستان میں خوردہ ادائیگی اور تصفیے کے نظام کو کنٹرول کرتی ہے۔ یہ نظام لوگوں اور تاجروں کے درمیان حقیقی وقت میں ادائیگیاں کرنا ممکن بناتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan