خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے اسکیموں کے نفاذ میں عوامی شرکت اور جوابدہی کو یقینی بنائیں: وزیر اعلی ڈاکٹر یادو
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے محکمہ خواتین و اطفال ترقیات کا جائزہ لیا بھوپال،یکم جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی ترقی کے محکمے کی اسکیموں کے نفاذ میں زیادہ سے زیادہ عوامی شرکت اور جوابدہی کو یقینی بنای
خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے اسکیموں کے نفاذ میں عوامی شرکت اور جوابدہی کو یقینی بنائیں: وزیر اعلی ڈاکٹر یادو


وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے محکمہ خواتین و اطفال ترقیات کا جائزہ لیا

بھوپال،یکم جون (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی ترقی کے محکمے کی اسکیموں کے نفاذ میں زیادہ سے زیادہ عوامی شرکت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اسکیموں کی زیادہ تشہیر ہونی چاہیے۔وزیر اعلی ڈاکٹر یادو نے یہ ہدایات پیر کے روز منترالیا میں منعقدہ خواتین اور بچوں کی ترقی کے محکمے کے جائزہ اجلاس میں دیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اسکیموں کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے۔ بچوں اور خواتین میں غذائیت کی سطح بہتر بنانے کے لیے چلائی جانے والی سرگرمیوں میں محکمہ صحت، محکمہ اسکولی تعلیم، پنچایت و دیہی ترقی کے ساتھ ساتھ نجی اسپتالوں اور اداروں کو بھی شامل کیا جائے۔ اس سمت میں دیگر ریاستوں اور صوبے کے مختلف اضلاع میں ہونے والی کامیاب اختراعی کوششوں کو اپنانے کے لیے بھی کا ر منصوبہ تیار کیا جائے۔ ساتھ ہی زمینی سطح پر بہتر کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور لاپرواہی برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے یہ ہدایات پیر کو منترالیہ میں منعقدہ محکمہ خواتین و اطفال ترقیات کی جائزہ میٹنگ میں دیں۔ میٹنگ میں وزیر برائے خواتین و اطفال ترقیات محترمہ نرملا بھوریا، چیف سکریٹری مسٹر انوراگ جین سمیت سینئر افسران موجود تھے۔

کام کاجی خواتین کے لیے پی پی پی موڈ پر ہوسٹل تعمیر کا منصوبہ بنائیں

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ جن صنعتی اکائیوں میں خواتین ملازمین کی تعداد زیادہ ہے، ان اکائیوں میں کام کاجی خواتین کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی موڈ) پر ہوسٹل تعمیرکا کار منصوبہ بنایاجائے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ دیواس، نرمداپورم، جھابوا اور سنگرولی میں ورکنگ ویمن ہوسٹل کی تعمیر شروع ہو چکی ہے۔ متاثرہ اور خواتین کو امداد فراہم کرنے کے لیے پانڈورنا، مو?گنج، میہر، پیٹلاود-جھابوا، اندور کے لسوڑیا اور سانویر، نیز دھار کے مناور اور پیتھم پور میں ون اسٹاپ سینٹر منظور کیے گئے ہیں۔چائلڈ ہیلپ لائن کے تحت 51 ضلع سطحی اور ایک ریاستی سطح کے ہیلپ سینٹر کے ذریعہ 66 ہزار سے زائد بچوں کو مدد فراہم کی گئی ہے۔ خطرے سے دوچار بچوں کی نشاندہی (میپنگ) کے لیے 13 اضلاع میں عمل جاری ہے۔

5 سے 6 سال عمر کے بچوں کے لیے منعقد کیاگیا ودیارمبھ سماروہ

میٹنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں 5 سے 6 سال عمر کے 9 لاکھ 28 ہزار بچوں کے لیے ودیارمبھ سماروہ منعقد کیا گیا، جس میں انہیں ودیارمبھ سرٹیفکیٹ فراہم کیے گئے اور بچوں کا اسکول میں ا?سان داخلے کو یقینی بنایا گیا۔صوبے کی اس اختراعی کوشش کو قومی سطح پر خصوصی سراہنا حاصل ہوئی ہے۔ بچوں کے نگہداشت کے اداروں کی جانب سے وزیراعلیٰ کھیل اور ثقافتی میلے کے انعقاد کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔

میٹنگ میں بتایا گیا کہ سکشم ا?نگن واڑی اپ گریڈیشن کے تحت صوبے میں ایک ساتھ 12 ہزار 670 منی سینٹر س کو مرکزی ا?نگن واڑی کے طور پر اپ گریڈ کر کے مدھیہ پردیش ملک میں سرفہرست بن گیا ہے۔ اس نوعیت کی پہل میں مدھیہ پردیش ملک کی نمایاں ریاستوں میں شامل ہے۔وزیراعلیٰ لاڈلی بہنا یوجنا کے تحت جنوری 2024 سے مئی 2026 تک صوبے کی ایک کروڑ 25 لاکھ سے زائد اہل بہنوں کو 47 ہزار 775 کروڑ روپے سے زائد کی ماہانہ مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ لاڈلی لکشمی یوجنا کے تحت مئی 2026 تک 15 لاکھ 84 ہزار بچیوں کا رجسٹریشن کیا گیا اور 537 کروڑ روپے سے زائد کی اسکالرشپ تقسیم کی گئی۔

میٹنگ میں بتایا گیا کہ پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا کے تحت رجسٹرڈ 15 لاکھ 51 ہزار حاملہ خواتین کو 798 کروڑ 68 لاکھ روپے سے زائد کی رقم ادا کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے نفاذ میں گزشتہ ڈھائی سال سے مدھیہ پردیش ملک میں سرفہرست ہے۔میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ صوبے کی تمام ا?نگن واڑی کارکنان، منی ا?نگن واڑی کارکنان اور معاونین کو بیمہ اسکیم سے فائدہ پہنچایا گیا ہے۔صوبے کے مختلف اضلاع میں غذائیت کی سطح بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے اختراعی اقدامات کی معلومات بھی پیش کی گئیں۔میٹنگ میں سکریٹری محکمہ خواتین و اطفال ترقیات شریمتی جی وی رشمی سمیت محکمہ کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande