ہندوستان -عمان کے درمیان سی ای پی اے نافذ العمل ، زیورات کی مصنوعات کی پہلی کھیپ خلیجی ملک بھیجی گئی
نئی دہلی، یکم جون (ہ س)۔ ہندوستان اور عمان کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) پیر کو نافذالعمل ہو گیا۔ پیر کومعاہدہ نافذالعمل ہونے کے بعد ممبئی، کولکاتا اور چنئی سے زرعی اور جواہرات اور زیورات کی مصنوعات کی تقریباً 10 کھیپ ترجی
India-Oman-Free-Trade-Agreement-Implemented-Piyush


نئی دہلی، یکم جون (ہ س)۔ ہندوستان اور عمان کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) پیر کو نافذالعمل ہو گیا۔ پیر کومعاہدہ نافذالعمل ہونے کے بعد ممبئی، کولکاتا اور چنئی سے زرعی اور جواہرات اور زیورات کی مصنوعات کی تقریباً 10 کھیپ ترجیحی نرخوں کے تحت خلیجی ملک بھیجی گئیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 18 دسمبر 2025 کو مسقط میں معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

مرکزی وزیر تجارت و صنعت نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس معاہدے سے گھریلو برآمد کنندگان کو ٹیکسٹائلز، چمڑے، پلاسٹک، سمندری مصنوعات، آٹوموبائل، کھیلوں کے سامان اور زرعی مصنوعات جیسے شعبوں میں فائدہ پہنچے گا کیونکہ انہیں اپنے حریفوں کے مقابلے عمان کی مارکیٹ تک ترجیحی رسائی حاصل ہوگی۔ ہندوستان -عمان سی ای پی اے تمام شعبوں بشمول ہندوستانی صنعت، ایم ایس ایم ای ، کسانوں، خواتین اور آیوش شعبے کے لیے مواقع کے نئے دروازے کھول رہا ہے۔ زیرو ڈیوٹی، بڑھتی ہوئی برآمدات اور مضبوط عالمی شراکت داری آج خود انحصار ہندوستان کی نئی شناخت بن رہی ہے۔

گوئل نے کہا کہ حکومت ہند عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال کے درمیان درآمدات پر انحصار کم کرکے برآمدات کی قیادت میں ترقی کو فروغ دے رہی ہے اور عمان کے ساتھ مجوزہ ایف ٹی اے اس پالیسی کا حصہ ہے۔ ہندوستان - امریکہ اندرونی تجارتی معاہدے پر پوچھے گئے سوال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیم کے ساتھ بات چیت 2 اور 4 جون کے درمیان ہوگی۔ گوئل نے کہا کہ معاہدے کے باضابطہ اعلان سے قبل کچھ باقی ماندہ مسائل کو حل کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت 4 جون تک جاری رہے گی۔

عمان خلیجی خطے میں ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اپنے جدید ترین بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے وسیع جی سی سی (گلف کوآپریشن کونسل) مارکیٹ کے لیے ایک اسٹریٹجک گیٹ وے کے طور پر کام کرتا ہے۔ ہندوستان اور عمان کے درمیان دو طرفہ تجارت مالی سال 2025-26 میں 11.18 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جو کہ مالی سال 2024-25 میں 10.61 ارب ڈالر تھی۔ دو طرفہ تجارت اب دوگنا ہو کر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی امید ہے ۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande