(اپ ڈیٹ) ہندوستان اور میانمار اقتصادی، سیکورٹی تعاون اور رابطہ کو وسعت دینے کے لیے معاہدے پر متفق
نئی دہلی، یکم جون (ہ س)۔ ہندوستان اور میانمار نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیکورٹی تعاون اور روابط کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر عملدرآمد اور تجارت اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا۔ پڑوسی ملک نے یہ


mod


نئی دہلی، یکم جون (ہ س)۔ ہندوستان اور میانمار نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیکورٹی تعاون اور روابط کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر عملدرآمد اور تجارت اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا۔ پڑوسی ملک نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین کو بھارت کے سلامتی کے مفادات کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور میانمار کے صدر یو من آنگ ہلینگ نے پیر کو دہلی کے حیدرآباد ہاو¿س میں وسیع دو طرفہ بات چیت کی۔ بات چیت میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سیکورٹی، بارڈر مینجمنٹ، ترقیاتی تعاون، ثقافتی تبادلے اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے صحت، تعلیم، توانائی، مصنوعی ذہانت اور خلائی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

دونوں فریقوں نے عوام سے عوام کے رابطوں کو بڑھانے کے لیے رابطے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ اس میں کلادان ملٹی ماڈل ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کی جلد تکمیل اور ہندوستان-میانمار-تھائی لینڈ سہ فریقی ہائی وے کے کلیوا-یگی سیکشن کی جلد تعمیر شامل ہے۔

بات چیت کے بعد وزارت میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے کہا کہ صدر یو من آنگ ہلینگ کے سرکاری دورے نے میانمار اور ہندوستان کے درمیان دیرینہ دوستی اور قریبی شراکت داری کا اعادہ کیا اور باہمی فائدے کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کی۔

صدر یو من آنگ ہلینگ نے ہندوستان میں قیام کے دوران ان کی اور ان کے وفد کے ارکان کی گرمجوشی سے مہمان نوازی کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ صدر نے وزیر اعظم نریندر مودی کو باہمی طور پر طے شدہ تاریخوں پر میانمار کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔

میانمار کے طلباء کے لیے میکونگ گنگا آئی سی سی آر اسکالرشپس کی تعداد 2026 سے 36 سے بڑھا کر 100 کر دی گئی ہے۔ دونوں فریقوں نے دو طرفہ تجارت کو آسان بنانے اور بڑھانے پر اتفاق کیا، روپیہ-کیات سیٹلمنٹ میکانزم اور لین دین کے حجم میں مئی 2024 کے بعد سےمسلسل اضافے کو سراہا ۔ باہمی دلچسپی کے شعبوں جیسے کہ زرعی پروسیسنگ، پیٹرولیم، توانائی، کان کنی کے شعبوں میں ان کے متعلقہ قومی قوانین اور ضوابط کے مطابق سرمایہ کاری میں تعاون کا اظہارکیا۔

دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دوطرفہ تعاون کے وسیع موضوعات کا احاطہ کیا گیا، جن میں تجارتی اور اقتصادی تعلقات، دفاع اور سلامتی، سرحدی انتظام، ترقیاتی امداد اور ثقافتی تبادلے شامل ہیں۔ دونوں فریقین نے مختلف دوطرفہ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر جاری بات چیت کا ذکر کیا اور ان کے جلد نتیجہ خیز ہونے کی امید ظاہر کی۔

صدر من آنگ ہلینگ 30 مئی سے 3 جون تک ہندوستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اپریل 2026 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ وہ پہلے بین الاقوامی بگ کیٹ الائنس سمٹ میں شرکت کرنے والے تھے، لیکن سربراہی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اس موقع کو دو طرفہ بات چیت کے لیے استعمال کیا گیا۔ میانمار کے صدر کے ساتھ ان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہندوستان آیا ہے جس میں پانچ کابینی وزراء، تین نائب وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

بات چیت کے بعد جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے امن، استحکام، قومی مفاہمت اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے میانمار کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر مسلسل مدد اور تعاون کی پیشکش کی۔ صدر نے ہندوستان کی تعمیری حمایت اور تعاون کی تعریف کی۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بہتر روابط سے باہمی فائدہ مند اقتصادی تعلقات کو فروغ ملے گا اور خطے میں مشترکہ خوشحالی آئے گی۔ وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان، میانمار کے ایک ثابت قدم اور بھروسہ مند پارٹنر کے طور پر، دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

سکریٹری خارجہ کے مطابق ہندوستان نے میانمار کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ میانمار کے صدر نے یقین دلایا کہ میانمار کی سرزمین کو بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میانمار ہندوستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کی ہندوستان کے ساتھ 1,643 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ یہ ہندوستان کی نیبر ہڈ فرسٹ، ایکٹ ایسٹ، اوشین اور انڈو پیسیفک پالیسیوں کے مرکز میں واقع ہے۔ ہندوستان پہنچنے سے پہلے میانمار کے صدر نے مہابودھی مندر، مہابودھی دھمائیکھا مٹھ اور سجاتا مندر کا دورہ کیا۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے بدھ مت، مذہبی اور عوام سے عوام کے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

مشترکہ بیان کے مطابق، ہندوستان کے وزیر اعظم اور میانمار کے صدر نے بات چیت میں باہمی دلچسپی کے دو طرفہ، علاقائی اور عالمی امور کا جائزہ لیا اور تعلقات کو آگے بڑھانے کا راستہ طے کیا۔ صدر کے ساتھ اپنی بات چیت میں، وزیر اعظم نے کہاکہ میانمار ہندوستان کی 'نیبر ہڈ فرسٹ'، 'ایکٹ ایسٹ' اور 'اوشین' (علاقوں میں سلامتی اور ترقی کے لیے باہمی اور جامع پیشرفت) کی پالیسیوں کے سنگم پر واقع ہے۔

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نے مہمان خصوصی کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا۔ بات چیت کے بعد صدر دروپدی مرمو نے شام کو میانمار کے صدر کا استقبال کیا۔ قبل ازیں وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے میانمار کے صدر سے الگ الگ ملاقات کی۔

صدر نے اتوار کو نئی دہلی میں یو ایم ایف سی سی آئی اور سی آئی آئی کی طرف سے مشترکہ طور پر منعقدہ انڈیا-میانمار بزنس سمٹ میں کلیدی خطبہ دیا، جہاں دونوں اطراف کے کاروباری رہنماو¿ں نے دو طرفہ تجارت اور تجارتی مواقع کو مزید مضبوط اور وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

صدر نے گریٹر نوئیڈا میں این ٹی پی سی انرجی ٹکنالوجی ریسرچ الائنس (این ای ٹی آراے) کیمپس کا دورہ کیا اور جدید تحقیق اور ترقیاتی کاموں کا مشاہدہ کیا جس میں صاف توانائی کی اختراع، توانائی کی کارکردگی، قابل تجدید توانائی کے انضمام اور گرڈ کی مضبوطی شامل ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande