پیپر لیک سے نظام تعلیم تباہ ہورہا ہے، نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں ہے: پون کھیڑا
نئی دہلی، یکم جون(ہ س)۔ کانگریس نے مرکزی حکومت پر نظام تعلیم کو تباہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں مختلف مسابقتی امتحانات میں پیپر لیک ہونے کے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں، جس سے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے اور
پیپر لیک سے نظام تعلیم تباہ ہورہا ہے، نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں ہے: پون کھیرا


نئی دہلی، یکم جون(ہ س)۔ کانگریس نے مرکزی حکومت پر نظام تعلیم کو تباہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں مختلف مسابقتی امتحانات میں پیپر لیک ہونے کے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں، جس سے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے اور بہت سے طلبا ذہنی دباو¿ میں خودکشی جیسے سنگین اقدامات کرنے پر مجبور ہیں۔

پیر کے روز یہاں کانگریس ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پون کھیڑا نے کہا کہ ملک میں پیپر لیک ہونے کے واقعات اکثر ہوتے رہے ہیں اور کئی امتحانات میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ این ای ای ٹی، سی یو ای ٹی، جے ای ای مین اور بی پی ایس سی جیسے امتحانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاکھوں طلباءمتاثر ہوئے ہیں۔پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ سی بی ایس ای امتحانات کی تشخیص اور اسکیننگ کے نظام میں تبدیلی کے دوران ٹینڈر کے عمل میں قواعد میں ترمیم کی گئی، جس سے ایک مخصوص کمپنی کو فائدہ ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے کے ٹینڈر میں ٹی سی ایس جیسی بڑی کمپنیاں شامل تھیں لیکن بعد میں شرائط بدل دی گئیں اور نئے ٹینڈر میں ایک مختلف کمپنی کو موقع ملا۔کھیڑا نے کہا کہ جوابی پرچوںکی تشخیص اور اسکیننگ کے عمل میں تبدیلیوں کی وجہ سے شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ طلباءسے دوبارہ تشخیص کے لیے معاوضہ لیا جا رہا ہے، جس سے والدین پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم پر حکومتی اخراجات میں کمی آئی ہے اور نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ جہاں ملک کے نوجوان امتحانات اور روزگار سے متعلق مسائل سے نبرد آزما ہیں، وہیں عوامی پیغامات میں مختلف موضوعات پر بات چیت ہو رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande