وزیر اعلیٰ یوگی نے 481 منتخب امیدواروں کو تقرری نامے تقسیم کئے
۔وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ بھرتیاں شفاف عمل کے تحت کی گئی ہیں لکھنؤ، 07 مئی (ہ س)۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعرات کو یہاں لوک بھون میں منعقدہ ایک پروگرام میں پیشہ ورانہ تعلیم کے محکمے اور معذوروں کو بااختیار بنانے کے محکمے کے
UP-CM-APPOINTMENT-LETTER


۔وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ بھرتیاں شفاف عمل کے تحت کی گئی ہیں

لکھنؤ، 07 مئی (ہ س)۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعرات کو یہاں لوک بھون میں منعقدہ ایک پروگرام میں پیشہ ورانہ تعلیم کے محکمے اور معذوروں کو بااختیار بنانے کے محکمے کے 481 نئے منتخب اہلکاروں کو تقرری نامے تقسیم کئے ۔ یوپی پبلک سروس کمیشن اور یوپی ماتحت خدمات سلیکشن کمیشن کے ذریعہ آیوش محکمہ کے لیے منتخب کیے گئے 202 پروفیسرز/ریڈرز/میڈیکل آفیسرز/اسٹاف نرسوں کو اور یوپی ماتحت خدمات سلیکشن کمیشن کے ذریعہ ووکیشنل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لیے منتخب کیے گئے 272 انسٹرکٹرز کو تقرری کے خطوط دیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی معذوروں کو بااختیار بنانے کے محکمے کے لیے منتخب 07 نرسوں/ ہاسٹل وارڈنز/ کمپاؤنڈرز کو تقرری کے خطوط دیے گئے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے منتخب امیدواروں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا، ”آپ نے دیکھا ہو گا کہ بھرتی کے پورے عمل کے دوران کسی سفارش کی ضرورت نہیں پڑی ہوگی۔ آیوش میں ویریفکیشن کے لئے کچھ وقت ضرور لگا۔ کسی بھی سطح پر بے ضابطگی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اگر پالیسی اور نیت صاف ہو تو نتائج بہتر ہوتے ہیں۔آج، اسی نتیجے کے تحت یہ تقرری نامے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔“

انہوں نے کہا، مجھے خوشی ہے کہ گزشتہ نوبرسوں میں، ہماری حکومت نے تقرری نامے کی تقسیم میں ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس سے پہلے، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتر پردیش میں تقرری نامے اتنی آسانی اورہموار طریقے سے تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔ گزشتہ 15 دنوں میں یہ ہمارا چوتھا تقرری نافہ تقسیم کرنے کاپروگرام ہے۔“

انہوں نے کہا کہ حکومت کی بھی کچھ توقعات ہوتی ہیں۔ جب اہل اور باصلاحیت نوجوان اس میں شامل ہوتے ہیں تو اس نظام میں تیزی آتی ہے۔ رفتار جتنی بہتر ہوگی ترقی اتنی ہی تیز نظر آئے گی۔ پہلے پیسے لے کر بھرتیاں کی جاتی تھیں۔ بھرتیاں ذات پات، مسلک، مذہب اور علاقے کو مدنظر رکھ کر کی جاتی تھیں۔ نوجوان نقل مکانی کرتے تھے۔ اتر پردیش کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوتی تھی۔ اتر پردیش ایک بیمار ریاست بن چکا تھا۔ یہاں کے ہر شہری کو شناخت کے بحران کا سامنا تھا۔ ملک یا دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، لوگ پہچاننا نہیں چاہتے تھے۔

وزیر اعلی یوگی نے کہا کہ آج مجھے خوشی ہے، ملک یا دنیا میں کہیں بھی جائیں، اتر پردیش کا ذکر ہوتے ہی سامنے والے کا چہرہ چمکتا نظر آتاہے۔ اتر پردیش کی معیشت، بجٹ اور فی کس آمدنی تین گنا بڑھ گئی ہے، اب ہمیں کوئی بیمار ریاست نہیں کہتا ہے۔ اتر پردیش ملک کی معیشت کا گروتھ انجن بنا ہوا ہے۔ یوپی کے اندر ہر شعبے میں ترقی نظر آ رہی ہے۔اس موقع پر اسکل ڈیولپمنٹ کے وزیر کپل دیو اگروال، آیوش کے وزیر دیاشنکر مشرا دیالو اور دیگر معززین موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande