
جموں, 07 مئی (ہ س)آپریشن سندور کے بعد پاکستانی گولہ باری میں جان گنوانے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ضلع پونچھ کے گردوارہ شری گرو سنگھ سبھا میں خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی اور امن و امان کے قیام کے لیے دعا کی گئی۔شرکاء نے سرحد پار سے شہری علاقوں اور مذہبی مقامات پر کی گئی گولہ باری کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرین کو یاد کیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال 7 مئی کی صبح بھارت کی جانب سے آپریشن سندور شروع کیے جانے کے فوراً بعد پونچھ ضلع میں پاکستانی توپ خانے اور مارٹر شیلنگ میں 12 افراد ہلاک جبکہ 34 زخمی ہوئے تھے۔آپریشن سندور کے تحت بھارت نے پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔
گردوارہ انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پاکستانی شیلنگ کے دوران گرودوارہ بھی نشانہ بنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ گرودوارے کے اندر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ بعد میں ایک شیل قریبی رہائشی مکانوں پر گرا جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ متاثرین کی پہلی برسی کے موقع پر خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے خطے کے فرقہ وارانہ اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جہاں ہندو، مسلم اور سکھ برادریاں برسوں سے امن و بھائی چارے کے ساتھ رہتی آئی ہیں۔عہدیدار نے کہا کہ گولہ باری میں گردوارہ، لنگر ہال، مندر اور مساجد بھی محفوظ نہیں رہیں جبکہ ایک مسجد میں موجود اسلامیات کے استاد کی بھی موت واقع ہوئی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ اور ایک فرد کو ملازمت فراہم کی ہے، لیکن انسانی جانوں کے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں۔پاکستانی گولہ باری کے دوران منکوٹ، مینڈھر، ٹھنڈی کسی اور پونچھ قصبے سمیت کئی دیہات اور گنجان آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں 10 سالہ محمد زین خان اور اس کی 12 سالہ بہن زویا خان بھی شامل تھے۔ ایک اور خاتون بلویندر کور اس وقت جاں بحق ہوئیں جب مارٹر شیل ان کے گھر پر گرا، جبکہ ان کی 13 سالہ بیٹی زخمی ہوگئی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر