کونسل کیلئے محمد اظہر الدین اور کودنڈا رام کی نامزدگی دوبارہ قانونی رسہ کشی کا شکار
حیدرآباد ، 7 مئی (ہ س)۔ محمداظہر الدین وپروفیسرکودنڈا رام کی گورنرکوٹہ کے تحت نامزدگی دوبارہ قانونی رسہ کشی کا شکار ہونے لگی ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے پروفیسر کودنڈا رام اورمحمد اظہرالدین کی گورنر کوٹہ میں رکن قانون ساز کونسل نامزد کئے جانے وا
کونسل کیلئے محمد اظہر الدین اور کودنڈا رام کی نامزدگی دوبارہ  قانونی رسہ کشی کا شکار


حیدرآباد ، 7 مئی (ہ س)۔ محمداظہر الدین وپروفیسرکودنڈا رام کی گورنرکوٹہ کے تحت نامزدگی دوبارہ قانونی رسہ کشی کا شکار ہونے لگی ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے پروفیسر کودنڈا رام اورمحمد اظہرالدین کی گورنر کوٹہ میں رکن قانون ساز کونسل نامزد کئے جانے والے جی اوایم ایس نمبر71 کو کالعدم قراردینے کے لئے تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی گئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پروفیسرکودنڈا رام اورمحمد اظہرالدین کی گورنر کوٹہ کے تحت نامزدگی غیرقانونی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی ایک رٹ درخواست نمبر 16285/2026 میں درخواست گذارنے دعویٰ کیا ہے کہ گورنر تلنگانہ کی جانب سے پروفیسرکودنڈا رام اورمحمد اظہر الدین کی نامزدگی طئے شدہ اصولوں اورآئینی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ درخواست میں کہا کہ مذکورہ نامزد گیاں دستورکی دفعہ 171 کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے کیونکہ اس میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ گورنرکوٹہ ادب، سائنس، فنون،سماجی خدمات کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کیلئے ہوتا ہے لیکن موجودہ نامزد گیوں میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا جوکہ آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ درخواست گذار نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت نے دونوں اراکین قانون ساز کونسل کی نامزدگیوں سے قبل ان کے پس منظرکامکمل جائزہ نہیں لیا بلکہ عجلت میں کئے گئے فیصلہ کے سبب ان اراکین قانون سازکونسل جنہیں گورنرنے اپنے کوٹہ میں منظوری دی ہے وہ نااہل قراردیئے جاسکتے ہیں۔عدالت میں داخل کی گئی درخواست میں دوبارہ سیاسی بنیادوں پرنامزدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے گورنرکے فیصلہ اورحکومت کے انتخاب کو چیالنج کیاگیا ہے۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande