
ممبئی ، 7 مئی (ہ س) عالمی یومِ تھیلیسیمیا کے موقع پر سامنے آنے والے اعداد و شمار نے مہاراشٹر کی صحت عامہ سے متعلق تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ریاست میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کی تعداد 13 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ سب سے زیادہ مریض ممبئی میں درج کیے گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مہاراشٹر میں تھیلیسیمیا کے مجموعی مریضوں کی تعداد 13 ہزار 3 تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ 3420 مریض ممبئی میں پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پونے، ناگپور، چھترپتی سمبھاجی نگر، ناسک اور تھانے جیسے اضلاع بھی زیادہ متاثرہ علاقوں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
ریاستی حکومت نے بڑھتے ہوئے معاملات کو دیکھتے ہوئے “تھیلیسیمیا مکت بھارت” مہم کے تحت بون میرو ٹرانسپلانٹ، مفت جینیاتی جانچ، ایچ ایل اے ٹائپنگ کیمپ اور دواؤں کی دستیابی بڑھانے جیسے اقدامات شروع کیے ہیں۔ حکومت نے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لیے 9.5 لاکھ سے 17 لاکھ روپے تک مالی امداد کی منظوری دی ہے۔
حکام کے مطابق 8 مئی 2025 سے اب تک وزیر اعلیٰ امدادی فنڈ، کول انڈیا فنڈ اور وزیر اعظم امدادی فنڈ کے ذریعے 90 بچوں کے بون میرو ٹرانسپلانٹ کرائے جا چکے ہیں۔ یہ علاج سی ایم سی ویلور، بی ایم جے ایچ بنگلورو، دیناناتھ منگیشکر اسپتال پونے اور کوکیلابین اسپتال ممبئی میں انجام دیے گئے۔
ریاستی کوآرڈینیٹرس اور سنکلپ انڈیا فاؤنڈیشن کے اشتراک سے گڑچرولی ضلع اسپتال میں کمپریہینسیو ڈے کیئر سینٹر بھی شروع کیا گیا ہے، جبکہ نندوربار میں بھی اسی طرز کا مرکز قائم کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ ناگپور سرکاری میڈیکل کالج میں سی وی ایس جینیاتی ٹیسٹ مفت انجام دیا جا رہا ہے تاکہ دورانِ حمل تھیلیسیمیا کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔
ناندیڑ، اورنگ آباد اور پونے میں منعقدہ خصوصی کیمپوں میں 162 خاندانوں کے 648 افراد کی بون میرو کراس میچنگ جانچ کی گئی۔ تمام نمونوں کی جانچ جرمنی کی ڈی کے ایم ایم لیب نے مفت انجام دی، جس میں 17 بچوں کے لیے موزوں بون میرو میچ حاصل ہوا۔
اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان ریاست میں 13 لاکھ 72 ہزار 489 ایچ پی ایل سی اور ایچ بی الیکٹروفوریسس ٹیسٹ کیے گئے۔ اس دوران 31 ہزار 552 تھیلیسیمیا مائنر اور 30 تھیلیسیمیا میجر مریضوں کی شناخت ہوئی۔
محکمہ صحت کے مطابق تھیلیسیمیا کے علاج میں استعمال ہونے والی دواؤں کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ 21 اپریل 2026 کے ای-اوشدھی پورٹل کے مطابق مختلف اضلاع میں 2 لاکھ 59 ہزار سے زائد گولیاں دستیاب ہیں۔ تھانے، اہلیہ نگر، پربھنی، ناگپور، دھاراشیو اور لاتور میں سب سے زیادہ ذخیرہ درج کیا گیا ہے، تاہم کئی اضلاع میں دواؤں کا ذخیرہ صفر ہونے سے مستقبل کی سپلائی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
مہاراشٹر میں تھیلیسیمیا مریضوں کی صورتحال:
سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع:
ممبئی – 3420
پونے – 1501
ناگپور – 650
اورنگ آباد – 641
ناسک – 601
تھانے – 593
جلگاؤں – 502
ناندیڑ – 502
اہلیہ نگر – 448
سانگلی – 419
درمیانی سطح کے متاثرہ اضلاع:
امراوتی – 380
اکولہ – 356
سولاپور – 288
کولہاپور – 249
یاتمال – 242
جالنہ – 246
دھولے – 224
بیڑ – 208
ساتارا – 203
بلڈھانہ – 200
کم متاثرہ اضلاع:
لاتور – 168
چندرپور – 165
بھندارہ – 149
پربھنی – 118
وردھا – 117
واشیم – 93
ہنگولی – 66
رائے گڑھ – 53
نندوربار – 43
گونڈیا – 42
سب سے کم متاثرہ اضلاع:
عثمان آباد – 37
سندھودرگ – 33
رتناگیری – 29
پالگھر – 14
گڑچرولی – 3
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے