
جموں یونیورسٹی کیمپس میں آوارہ کتوں کی دہشت سے رہائشی پریشان
جموں، 07 مئی (ہ س)۔ جموں یونیورسٹی کیمپس میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد طلبہ، ملازمین اور رہائشیوں کے لیے سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر ایک خطرناک کتے نے کئی افراد کو کاٹ کر خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کتا یونیورسٹی کے اسٹاف کوارٹروں کے قریب گھومتا رہتا ہے اور یہاں رہنے والے طلبہ کے علاوہ مختلف خدمات فراہم کرنے والے افراد پر بھی حملہ کر چکا ہے۔
معاملہ یونیورسٹی انتظامیہ کے نوٹس میں آنے کے بعد رجسٹرار جموں یونیورسٹی نے 2 مارچ کو جموں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ مذکورہ کتے کو فوری طور پر وہاں سے ہٹایا جائے اور کیمپس میں موجود دیگر کتوں کی نس بندی بھی کرائی جائے۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے کے دو ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
ادھر، رہائشی کوارٹروں میں مقیم ملازمین اور ان کے اہل خانہ میں خوف کا ماحول پایا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی کے اکیڈمک بلاکس میں بھی آوارہ کتے گھومتے نظر آتے ہیں، جس سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کیمپس میں دو سو سے زائد آوارہ کتے موجود ہیں، جو تعلیمی عمارتوں سے لے کر رہائشی علاقوں تک ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ مذکورہ کتا یونیورسٹی میں کھانے پینے اور دیگر سامان کی فراہمی کرنے والے بیشتر افراد کو کاٹ چکا ہے، جس کے باعث ملازمین اور رہائشیوں کو مسلسل چوکس رہنا پڑتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر